اسلام آباد: پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ حملوں کے تبادلے کے باوجود اسلام آباد مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی امید سے دستبردار نہیں ہوا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بدھ کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ حالیہ کشیدگی کے باوجود پاکستان واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کو تشویشناک اور ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان حالیہ پیش رفت کو اپنی سفارتی کوششوں کے لیے دھچکا نہیں سمجھتا۔
ترجمان کے مطابق مسلح تنازعات عموماً مختلف مراحل سے گزرتے ہیں، جن میں کشیدگی، کشیدگی میں کمی، جنگ بندی اور بالآخر مذاکرات شامل ہیں۔ پاکستان کی توجہ فریقین کو سفارتی مرحلے کی جانب لے جانے پر مرکوز ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے امن عمل میں مکمل اخلاص کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان رابطے اور مذاکرات کی سہولت کاری جاری رکھے گا۔
انہوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان 18 جون کو طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی سمجھوتے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ فریم ورک دونوں فریقوں کی آمادگی کی صورت میں سیاسی اور تکنیکی مذاکرات کی بحالی میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
14 نکاتی عبوری فریم ورک کا مقصد تنازع کے خاتمے اور طویل المدتی تصفیے کے لیے راستہ ہموار کرنا تھا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ یہ فریم ورک اب بھی موجود ہے اور اسے غیر مؤثر یا ختم شدہ قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی میں اضافے کے دوران دونوں جانب سے سخت بیانات آنا غیر معمولی بات نہیں، تاہم امید ہے کہ حالیہ کشیدگی میں کمی کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہوجائیں گے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورہ تہران کو بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دورے کے دوران علاقائی کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی حوصلہ افزائی اور تنازع کے پرامن حل کے لیے نئی پیش رفت پیدا کرنے پر توجہ دی گئی۔
طاہر اندرابی کے مطابق عمان اور قطر کی قیادت کے بعد کے دورے بھی تنازع سے نکلنے کے لیے جاری سفارتی سرگرمیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان آئندہ بھی مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے طاہر اندرابی نے ہیگ میں مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا، جس میں معاہدے کے برقرار اور قانونی طور پر پابند ہونے کی توثیق کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ متفقہ فیصلہ معاہدے کی اہمیت اور اس اصول کی واضح توثیق ہے کہ بین الاقوامی تنازعات کو طے شدہ قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
عدالت نے اس مؤقف کو بھی مسترد کردیا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان اسے اپنی ذمہ داریوں سے آزاد کرسکتا ہے۔
ترجمان کے مطابق فیصلے نے یہ بھی واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کا طریقہ کار بدستور فعال ہے۔
عدالت نے عالمی بینک کے مقرر کردہ غیر جانب دار ماہر کو یہ تعین کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی ہے کہ ہمالیائی خطے میں بعض پن بجلی منصوبوں کی تعمیر معاہدے کی شرائط سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں، جس کا تعین جولائی 2027 تک کیا جائے گا۔
بھارت نے اپریل 2025 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے ایک حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نئی دہلی نے پاکستان پر اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا، جسے اسلام آباد نے مسترد کردیا تھا۔ اس تنازع کے بعد مئی میں دونوں ممالک کے درمیان شدید فوجی جھڑپیں ہوئیں، جن کے بعد امریکی کوششوں سے جنگ بندی عمل میں آئی۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ عدالت کے فیصلے نے پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کو مزید تقویت دی ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق اختلافات کو معاہدے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ رَٹل پن بجلی منصوبے سے متعلق عبوری اقدام بھی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معاہدے کے تحت حاصل حقوق اور ذمہ داریوں کو یکطرفہ طور پر تبدیل یا ختم نہیں کیا جاسکتا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان عدالت کی جانب سے سامنے آنے والے واضح اور مستند فیصلوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت تزویراتی سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے معاہدے کے تحت تعاون کو باقاعدہ بنانے، مشترکہ دفاعی انتظامات کو مضبوط کرنے اور مشترکہ سلامتی کے معاملات پر رابطہ کاری بہتر بنانے پر اتفاق کیا۔
تینوں ممالک نے علاقائی امن و استحکام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بحرانوں کے حل اور مزید کشیدگی کی روک تھام کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
ترجمان نے بتایا کہ معاہدے کے لیے مستقل سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا، جبکہ ابتدائی طور پر پاکستان تین سال کے لیے سیکریٹری جنرل فراہم کرے گا۔
تینوں ممالک نے دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اپنی مسلح افواج کی عملی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی سنبھالنے کے حوالے سے طاہر اندرابی نے بتایا کہ پاکستان نے اپنی سربراہی کے لیے “تصور کو عمل میں بدلنا: رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی” کا موضوع مقرر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سربراہی کے دوران رابطہ کاری، جدت اور معاشی ترقی کے شعبوں میں تعاون آگے بڑھانے کے ساتھ رکن ممالک کے درمیان زیادہ مؤثر اور عملی اشتراک کو فروغ دینے پر توجہ دے گا۔