تازہ ترین

ایران کا بڑا جوابی وار، کویت اور امارات میں امریکی اڈوں پر حملے

0

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر شدت آگئی ہے، ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے کویت اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ ایرانی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں امریکا کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں کے جواب میں ’’آپریشن صاعقہ‘‘ کے 31ویں مرحلے کے تحت کی گئیں۔

ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جمعرات کی علی الصبح کیے گئے حملوں میں کویت کے احمد الجابر فضائی اڈے کو میزائلوں اور حملہ آور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فوج کے مطابق حملوں میں مصنوعی سیاروں کے ذریعے مواصلاتی نظام، سازوسامان کے گودام اور جنگی طیاروں کے ہینگرز کو ہدف بنایا گیا، جبکہ مواصلاتی نظام اور ہینگرز کو نقصان پہنچا۔

ایرانی فوج نے مزید دعویٰ کیا کہ متحدہ عرب امارات کے المہناد فضائی اڈے پر بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جہاں امریکی فوجی اہلکاروں کے ٹھکانوں اور ریڈار نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے فوجی کارروائیاں جاری رہنے کی صورت میں اس کی جوابی کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔

دوسری جانب کویت نے اپنی سرزمین پر ہونے والے ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ کویتی حکام کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کیا، جبکہ وزارت خارجہ نے ان کارروائیوں کو کویت کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور ملک کی سلامتی و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ احمد الجابر فضائی اڈہ خطے میں امریکی افواج کے لیے رسد اور معاونت کا اہم مرکز ہے، جہاں سے فضائی کارروائیوں اور نگرانی کی سرگرمیوں میں مدد حاصل کی جاتی ہے۔ ایران کے مطابق اسی طرح متحدہ عرب امارات میں واقع المہناد اڈہ بھی غیر ملکی افواج کی فضائی معاونت اور نقل و حرکت کے حوالے سے اہم حیثیت رکھتا ہے۔

یہ تازہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست فوجی کشیدگی ایک مرتبہ پھر بڑھ گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکا نے ایران کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

دوسری جانب ایران کی ہلال احمر سوسائٹی نے جنوبی شہر کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر ہونے والے امریکی میزائل حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق حملے میں متعدد شہری جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ تازہ رپورٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد مختلف بتائی گئی ہے، اس لیے حتمی تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز تہران کی رضامندی کے بغیر نہیں کھولی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکا کو اپنے خطرات کو قابلِ عمل بنانے کی صلاحیت کا ثبوت دے دیا ہے۔

ایران کے ان تازہ اقدامات سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کی سلامتی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.