تازہ ترین

سی پیک، گوادر میں نئے ترقیاتی منصوبوں کا لائحہ عمل تیار

0

  پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت گوادر کی ترقی سے متعلق جوائنٹ ورکنگ گروپ (JWG) کا نواں اجلاس بیجنگ اور اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں گوادر میں جاری، مکمل اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت، ترجیحات اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کی جانب سے سیکرٹری وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات ڈاکٹر محمد طاہر نور جبکہ چینی جانب سے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (NDRC) کے ڈائریکٹر جنرل مسٹر پان جیانگ نے کی۔ اجلاس میں متعلقہ وفاقی وزارتوں ، اداروں اور چینی حکام و ماہرین نے شرکت کی، جبکہ ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان اور ڈائریکٹر جنرل آپریشنز گوادر پورٹ اتھارٹی داؤد کلمتی نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ اسلام آباد میں قائم چینی سفارتخانے کے کمرشل ونگ کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں شریک تھے۔اجلاس کے دوران پاکستانی اور چینی حکام کی جانب سے اپنے اپنے متعلقہ شعبوں اور منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ گوادر میں سی پیک کے تحت مکمل ہونے والے منصوبوں ، زیرِ تعمیر منصوبوں اور مستقبل کے لیے تجویز کردہ منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں گوادر کے اہم سماجی و معاشی منصوبوں ، بالخصوص پاک چین ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ (PCTVI)، جی ڈی اے پاک چین فرینڈشپ ہسپتال اور 1.2 ملین گیلن یومیہ (MGD) سمندری پانی کے ڈیسالینیشن پلانٹ کی پیشرفت اور افادیت کا بھی جائزہ لیا گیا۔چینی حکام نے گوادر میں مکمل کیے گئے سماجی و معاشی منصوبوں کی کارکردگی اور ان سے مقامی آبادی کو براہِ راست حاصل ہونے والے فوائد پر اطمینان کا اظہار کیا۔ چینی حکام نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ، پاک چین فرینڈشپ ہسپتال اور 1.2 MGD ڈیسالینیشن پلانٹ سمیت چین کے تعاون سے مکمل کیے گئے منصوبے گوادر کے شہریوں کو عملی اور براہِ راست سہولیات فراہم کر رہے ہیں ۔چینی حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گوادر کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے چین کا تعاون آئندہ بھی جاری رہے گا اور مقامی آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے منصوبوں پر بھی تعاون اور غور و خوض کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔اجلاس میں جی ڈی اے کی جانب سے مستقبل کے لیے پیش کی جانے والی مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ پاک چین فرینڈشپ ہسپتال کی توسیع، اس کی استعداد کو ایک سو سے  300 بستروں تک بڑھانے، میڈیکل اور نرسنگ کالج کے قیام سمیت گوادر کے صحت اور تعلیم کے شعبوں سے متعلق تجاویز بھی زیر بحث آئیں ۔اسی طرح گوادر کے ویسٹ بے/پدی زر میں جدید فش لینڈنگ جیٹی، فش ہاربر اور بوٹ میکنگ انڈسٹری کے قیام کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا، جن کا مقصد ماہی گیری کے شعبے کو جدید سہولیات فراہم کرنا، مقامی ماہی گیروں کے لیے روزگار و کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور گوادر کی مقامی معیشت کو مزید مستحکم کرنا ہے اسی طرح گوادر سمارٹ انوارمنٹ سنٹینیشن سسٹم اینڈ لینڈ فل پروجیکٹ کی تجویز شامل کیا گیا۔اجلاس میں گوادر پورٹ اور فری زون، ایسٹ بے ایکسپریس وے فیز-II، بریک واٹر کی تعمیر، برتھنگ ایریاز اور چینلز کی ڈریجنگ، گوادر پورٹ کی ملکی اقتصادی مراکز سے رابطہ کاری، ایم ایٹ موٹروے اور منرل کوریڈور سے گوادر تک رابطہ سڑکوں سمیت متعدد منصوبوں کی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.