سندھ کے تعلیمی بورڈز میں بھرتیوں کا نیا نظام متعارف
کراچی- سندھ کے تعلیمی بورڈز میں بھرتیوں کے نظام کو نئے ضوابط کے تحت لانے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے، صوبائی حکومت نے سندھ تعلیمی بورڈز ریکروٹمنٹ رولز 2026 تمام تعلیمی بورڈز میں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اہم فیصلے وزیر جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو کی زیر صدارت اجلاس میں کیے گئے، جس میں صوبے کے تعلیمی بورڈز کی کارکردگی، انتظامی امور، امتحانی نظام اور ڈیجیٹلائزیشن سمیت مختلف معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کابینہ سے منظور شدہ ریکروٹمنٹ رولز 2026 تمام تعلیمی بورڈز میں نافذ کیے جائیں گے۔ نئے قوانین کا باقاعدہ نوٹیفکیشن سرکاری گزٹ میں شائع کیا جائے گا، جس کے بعد بھرتیوں سے متعلق تمام معاملات نئے ضوابط کے تحت آگے بڑھائے جائیں گے۔
تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تعلیمی بورڈز میں آئی ٹی ماہرین کی بھرتیوں کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں ڈائریکٹر آئی ٹی، ویب سائٹ ڈویلپر، سسٹم ایڈمنسٹریٹر اور نیٹ ورک سیکیورٹی ایڈمنسٹریٹر سمیت دیگر متعلقہ ماہرین شامل ہوں گے۔
حکام کو تمام تعلیمی بورڈز میں ملازمین کی سنیارٹی فہرستیں فوری طور پر مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے، تاکہ ملازمین سے متعلق انتظامی معاملات کو زیادہ منظم اور شفاف انداز میں آگے بڑھایا جاسکے۔
اجلاس میں ای مارکنگ اور ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو مزید تیز کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ تعلیمی بورڈز کی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے مناسب انتظامات یقینی بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
ٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈ کے لیے الگ ریکروٹمنٹ رولز تیار کرنے کا عمل بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ اس بورڈ میں بھرتیوں کے معاملات بھی واضح اور باقاعدہ ضوابط کے تحت انجام دیے جاسکیں۔
اجلاس میں امتحانات مقررہ وقت پر منعقد کرنے اور نتائج بروقت جاری کرنے والے بورڈ چیئرمینز کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں اسناد دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
حکام کے مطابق سندھ تعلیمی بورڈز ریکروٹمنٹ رولز 2026 کے نفاذ اور ڈیجیٹل اصلاحات کا بنیادی مقصد بھرتیوں کے نظام میں شفافیت لانا، انتظامی کارکردگی بہتر بنانا اور صوبے کے امتحانی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہے۔