نیپال اور چین میں جھیل پھٹنے کا خطرہ، حکام ہائی الرٹ
کٹھمنڈو- نیپال اور چین میں تباہ کن سیلاب کے بعد خطرہ ابھی ٹلا نہیں، ہمالیائی خطے میں ملبے سے بننے والی جھیلوں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے باعث ایک اور بڑے سیلاب کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جس نے پہلے سے جاری امدادی سرگرمیوں کو بھی مزید مشکل بنا دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نیپال اور چین کے درمیان ہمالیائی علاقے میں حالیہ سیلاب کے بعد دریا کے راستے میں بڑی مقدار میں ملبہ جمع ہونے سے ایک مصنوعی جھیل وجود میں آگئی ہے۔ جھیل میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کے باعث اس کے ممکنہ طور پر پھٹنے اور زیریں علاقوں میں دوبارہ شدید سیلاب آنے کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔
حکام نے ممکنہ نئے سیلاب کے پیش نظر نگرانی اور احتیاطی اقدامات تیز کردیئے ہیں، جبکہ جھیل کے کناروں پر دباؤ بڑھنے اور پانی کے اچانک اخراج کے خطرے کے باعث الرٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔
نیپالی حکام کے مطابق حالیہ تباہ کن سیلاب میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ تقریباً ایک ہزار افراد تاحال لاپتا ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم مزید سیلاب کے خدشے کے باعث امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔
دوسری جانب چین نے بھی تبت کے سرحدی علاقے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چینی حکام کے مطابق جھیل میں مزید پانی داخل ہونے کی توقع ہے، جس سے اس کے کنارے ٹوٹنے اور نئے سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پانی کا بہاؤ یکم ستمبر کے آس پاس بلند ترین سطح تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس پیش رفت کے پیش نظر چینی حکام صورتحال کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ متوقع بارشوں اور مسلسل بڑھتی ہوئی پانی کی سطح کے باعث ہمالیائی خطے میں ثانوی سیلاب کے ساتھ ساتھ لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر قدرتی آفات کا خطرہ بھی برقرار ہے۔
موجودہ صورتحال میں نیپال اور چین کے متعلقہ ادارے جھیلوں میں پانی کی سطح، دریا کے بہاؤ اور ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں متاثرہ علاقوں میں بروقت اقدامات کیے جاسکیں۔