تازہ ترین

بیرسٹر افتخار گیلانی، وکالت سے وزارتِ عظمیٰ تک کا سفر

0

مظفرآباد- عام نشست پر انتخابی شکست کے باوجود بیرسٹر افتخار گیلانی نے سیاسی میدان میں واپسی کی اور ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے آزاد کشمیر اسمبلی کا حصہ بننے کے بعد وزارتِ عظمیٰ تک پہنچ گئے۔ مسلم لیگ ن کے نامزد امیدوار نے قائد ایوان کے انتخاب میں 30 ووٹ حاصل کرکے ریاست کے نئے وزیراعظم کا منصب سنبھال لیا۔

افتخار گیلانی کا شمار آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کے اہم سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق مظفرآباد کے ایک سیاسی خاندان سے ہے اور وہ وکالت، تعلیم اور پارلیمانی سیاست کے شعبوں میں تجربہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد میں حاصل کی، جس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ گئے اور بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی۔ پاکستان واپس آنے کے بعد انہوں نے اسلام آباد میں وکالت شروع کی اور کئی برس تک قانونی شعبے سے وابستہ رہے۔

افتخار گیلانی نے 2011 کے آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرکے پہلی مرتبہ قانون ساز اسمبلی میں جگہ بنائی۔ اس وقت ریاست میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔

2016 کے عام انتخابات میں بھی انہوں نے مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی اور دوسری مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ بعد ازاں سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر کی حکومت میں انہیں محکمہ تعلیم کی ذمہ داری سونپی گئی۔

بطور وزیر تعلیم ان کی ترجیحات میں تعلیمی نظام میں بہتری، میرٹ اور انتظامی اصلاحات شامل تھیں۔ اس دوران اساتذہ کی بھرتیوں میں نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے نظام کو آگے بڑھانے سمیت دیگر اقدامات بھی کیے گئے۔

حالیہ 2026 کے انتخابات میں افتخار گیلانی نے ایل اے 29 مظفرآباد 3 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا، تاہم وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ انہیں 16 ہزار 507 ووٹ ملے جبکہ پیپلز پارٹی کے سردار مختار احمد خان نے 20 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔

عام نشست پر شکست کے باوجود افتخار گیلانی کا سیاسی سفر رکا نہیں۔ مسلم لیگ ن نے انہیں ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کے لیے نامزد کیا، جس پر کامیابی کے بعد وہ دوبارہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا حصہ بن گئے۔

بعد ازاں مسلم لیگ ن نے انہیں وزارتِ عظمیٰ کے لیے اپنا امیدوار نامزد کردیا۔ اسمبلی میں پارٹی کو عددی برتری حاصل ہونے کے باعث افتخار گیلانی قائد ایوان کا انتخاب جیتنے میں کامیاب رہے۔

وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اب افتخار گیلانی کے سامنے حکومت چلانے کا ایک نیا مرحلہ ہے۔ انہیں سیاسی استحکام، انتظامی معاملات، مالی مشکلات، تعلیم و صحت کی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔

ریاست میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنا اور اپنی جماعت کے اندر اتحاد برقرار رکھنا بھی ان کی حکومت کے لیے اہم آزمائش ہوگی۔

افتخار گیلانی کے قانونی، تعلیمی اور سیاسی تجربے کو حکومتی کارکردگی میں تبدیل کرنا اب ان کی سب سے بڑی ذمہ داری ہوگی، جبکہ عوام کی توقعات پر پورا اترنا ان کی نئی حکومت کے لیے اہم امتحان قرار دیا جارہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.