طارق رحمان کا دورہ بھارت، نئی دہلی کی کوششیں تیز ہوگئیں
نئی دہلی- بنگلہ دیش میں سیاسی تبدیلی کے بعد بھارت نے ڈھاکا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں، جبکہ نئی دہلی کی جانب سے بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم طارق رحمان کو بھارت کے دورے پر بلانے کے لیے مسلسل رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارت اب طارق رحمان کو اپنے قریب لانے کے لیے غیر معمولی سفارتی سرگرمیاں کررہا ہے۔ تاہم سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی بھارت میں موجودگی اور بنگلہ دیش کے پاکستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ بڑھتے روابط نئی دہلی کے لیے اہم چیلنج بن گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حال ہی میں بھارت کے صدر کے دفتر سے ایک ای میل جاری ہوئی جس میں طارق رحمان کے ممکنہ دورۂ بھارت کے پیش نظر صدارتی محل میں ہونے والی ایک تقریب منسوخ کرنے کا ذکر کیا گیا تھا۔ بعدازاں یہ ای میل واپس لے لی گئی کیونکہ طارق رحمان کے دورے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
تاہم اس واقعے سے یہ تاثر ضرور ملا کہ نئی دہلی بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم کو بھارت کے دورے پر لانے میں خاصی دلچسپی رکھتا ہے۔
فروری میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی کامیابی کے بعد طارق رحمان وزیراعظم بنے۔ یہ تبدیلی اگست 2024 میں بڑے عوامی احتجاج کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سامنے آئی تھی۔ شیخ حسینہ حکومت ختم ہونے کے بعد بھارت چلی گئی تھیں اور اب تک وہیں موجود ہیں۔
شیخ حسینہ کے دور میں بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات انتہائی قریبی رہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سڑک، ریل اور بندرگاہی روابط کے ساتھ ساتھ سکیورٹی تعاون میں بھی اضافہ ہوا تھا۔ بنگلہ دیش بھارت کے لیے شمال مشرقی ریاستوں تک رسائی کے حوالے سے بھی انتہائی اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔
تاہم حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی آئی۔ عبوری حکومت کے دور میں نئی دہلی اور ڈھاکا کے درمیان کشیدگی بڑھی، جبکہ طارق رحمان کی حکومت اپنی خارجہ پالیسی میں بھارت کے بجائے دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ بھی روابط بڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔
بھارت کے لیے ایک اہم مسئلہ شیخ حسینہ واجد کی موجودگی بھی ہے۔ بنگلہ دیش نے بھارت سے سابق وزیراعظم کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ حسینہ واجد کو احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال کے مقدمے میں غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ وہ حوالگی کی درخواست کا جائزہ لے رہا ہے۔
دوسری جانب بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں بھی بہتری دیکھی جارہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی فوجی روابط میں اضافہ ہوا ہے جبکہ دفاعی تعاون مزید بڑھانے کے امکانات پر بھی بات چیت جاری ہے۔
یہ صورتحال بھارت کے لیے خاصی اہم ہے، کیونکہ نئی دہلی ماضی میں پاکستان پر بنگلہ دیش میں شمال مشرقی بھارت کے علیحدگی پسند گروہوں کی معاونت کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔
بنگلہ دیش سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والے حالیہ دفاعی معاہدے میں بھی دلچسپی ظاہر کرچکا ہے۔ بنگلہ دیش کے جونیئر وزیر خارجہ ہمایوں کبیر کے مطابق اسلامی ممالک کے درمیان کسی سکیورٹی انتظام میں شمولیت پر غور کرنا غیر معمولی بات نہیں اور اس پیش رفت کو مثبت انداز میں دیکھا جارہا ہے۔
بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تقریباً 4 ہزار 96 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بھی اہم حجم رکھتی ہے۔ گزشتہ برس باہمی تجارت 12 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی تھی، جس میں بھارت کو واضح برتری حاصل رہی۔
اسی لیے نئی دہلی کے لیے ڈھاکا کے ساتھ تعلقات صرف سفارتی معاملہ نہیں بلکہ معاشی، سکیورٹی اور جغرافیائی مفادات سے بھی براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق بھارت نے طارق رحمان کو باقاعدہ دعوت دے رکھی ہے اور بھارتی سفارتی حکام ان کے دورے کے لیے رابطے کررہے ہیں۔ تاہم شیخ حسینہ کی بھارت میں موجودگی کے دوران طارق رحمان کا دہلی کا دورہ کرنا ان کے لیے اندرونِ ملک ایک حساس سیاسی معاملہ بھی بن سکتا ہے۔
بھارت کے لیے اصل چیلنج اب صرف طارق رحمان کے دورے تک محدود نہیں بلکہ یہ ہے کہ نئی دہلی بنگلہ دیش میں وہ سیاسی اور سفارتی اثر و رسوخ دوبارہ حاصل کرپاتا ہے یا نہیں جو اسے شیخ حسینہ کے دور میں حاصل تھا۔
بنگلہ دیش کے پاکستان اور دیگر علاقائی و اسلامی ممالک کے ساتھ بڑھتے روابط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ڈھاکا اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ وسیع گنجائش پیدا کررہا ہے۔
ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس اور بھارت میں ہونے والی برکس سربراہ کانفرنس کے دوران بھی طارق رحمان اور بھارتی قیادت کے درمیان ملاقات کے امکانات موجود ہیں۔ نئی دہلی کو امید ہے کہ مسلسل سفارتی کوششوں کے بعد بنگلہ دیش کے وزیراعظم بھارت کا دورہ قبول کرلیں گے۔