تازہ ترین

ٹیکس نظام میں اصلاحات، وزیراعظم شہباز شریف نے اہم ہدایات جاری کردیں

0

اسلام آباد- وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر اصلاحات کے عمل میں شفافیت اور مؤثریت یقینی بنانے کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے تمام اصلاحاتی اقدامات مقررہ مدت میں مکمل کرنے اور ان کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت کردی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا، جس میں ادارے میں جاری اصلاحات، پی آر اے ایل کی تنظیم نو، ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور اسمگلنگ کے تدارک کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملکی ترقی اور معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ٹیکس نظام میں جامع اصلاحات نافذ کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اصلاحاتی عمل میں شفافیت، مؤثریت اور پائیداری کو ہر صورت یقینی بنانے پر زور دیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن، پیداوار کی نگرانی اور خودکار نظام ایف بی آر اصلاحات کے اہم ستون ہیں۔ انہوں نے ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف کارروائی مزید مؤثر اور تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیکس نظام کو جدید، مربوط اور ڈیٹا پر مبنی بنانے کے لیے آئرس 3.0، نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل اور سینٹرل ڈیٹا ہب پر مرحلہ وار کام جاری ہے۔ آئرس 3.0 کے ڈیزائن کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پی آر اے ایل میں ٹیکنالوجی، ڈیٹا سیکیورٹی، آپریشنز اور ٹیکس ڈومین سمیت مختلف شعبوں میں نئی سینئر قیادت تعینات کی گئی ہے۔

آئرس 3.0 کے تحت ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے، آٹو ٹیکس کے تصور کو پائلٹ کرنے اور مستقبل میں مصنوعی ذہانت و مشین لرننگ کو ٹیکس وصولی بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنے پر بھی کام تیز کردیا گیا ہے۔

اجلاس کو کسٹمز کے شعبے میں فیس لیس اسیسمنٹ کے نتائج سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران فی گڈز ڈیکلریشن اوسط ریونیو میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

حکام کے مطابق فیس لیس اسیسمنٹ سے نہ صرف محاصل میں بہتری آئی بلکہ درآمدی بے ضابطگیوں کی نشاندہی اور ان کی نگرانی بھی بہتر ہوئی ہے۔

کسٹمز اسیسمنٹ کے نظام کو مزید مربوط بنانے کے لیے 280 گڈز ایویلیویٹرز کی بھرتی کا عمل بھی آخری مراحل میں ہے۔

اسلام آباد میں سینٹرل اسیسمنٹ یونٹ کے قیام پر بھی پیشرفت جاری ہے۔ عبوری انتظام کے تحت اسے 31 دسمبر 2026 تک فعال کرنے جبکہ مکمل مربوط سہولت کو جون 2027 تک نئے کمپلیکس میں فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل انوائسنگ کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی 2025 میں اس نظام کے ذریعے 236 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، جو جولائی 2026 میں بڑھ کر 2.5 ٹریلین روپے سے تجاوز کرگئیں۔

حکام نے بتایا کہ دسمبر 2026 تک ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے 4 ٹریلین روپے کی ٹرانزیکشنز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے لیے قانونی پٹرول پمپس کی جی آئی ایس ٹیگنگ، جی پی ایس کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی ٹریکنگ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ای آر پی نظام کو ٹریکر سے منسلک کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مرکزی ٹریکنگ ایپ سمیت متعدد اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ راہِ گزر ایپ کے ذریعے 2,500 غیر قانونی پٹرول پمپس بند کرائے جا چکے ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے ایف بی آر اصلاحات پر عملدرآمد مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کا بنیادی مقصد ٹیکس نظام کو جدید اور مؤثر بنانا، ریونیو وصولی میں اضافہ اور اسمگلنگ کا مکمل تدارک ہے۔

انہوں نے ایف بی آر میں اچھی شہرت کے حامل گڈز ایویلیویٹرز کی تعیناتی کو خوش آئند قرار دیا اور چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہا۔

اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، رکن قومی اسمبلی عثمان اویسی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.