افغانستان میں طالبان مخالف گروپوں کے 82 حملے، اکتوبر میں کارروائیوں میں دوگنا سے زائد اضافہ
کابل: افغانستان میں طالبان مخالف مزاحمتی گروپوں کی کارروائیوں میں اکتوبر کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جب مختلف گروپوں نے طالبان کے ٹھکانوں اور اہلکاروں پر 82 حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ تعداد ستمبر کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق علاقائی امور کے افسر ول سیلبر کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق یہ حملے افغانستان کے 21 صوبوں میں کیے گئے۔ ان میں دھماکا خیز مواد کے ذریعے کارروائیاں، راکٹ اور مارٹر گولہ باری، گھات لگا کر حملے اور ٹارگٹ کلنگ شامل ہیں۔
مزاحمتی گروپوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کارروائیوں میں 122 طالبان اہلکار ہلاک اور 68 زخمی ہوئے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
رپورٹ کے مطابق سابق افغان فوجی کمانڈر سمیع سادات کی قیادت میں قائم افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے سب سے زیادہ 36 حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں بیشتر قندھار اور ہلمند میں کیے گئے۔ احمد مسعود کی قیادت میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے 11 جبکہ سابق افغان آرمی چیف یاسین ضیا کے زیر قیادت افغانستان فریڈم فرنٹ نے 10 حملوں کا دعویٰ کیا۔
افغانستان فریڈم فرنٹ نے 22 اکتوبر کو بگرام ایئر بیس پر حملے میں 10 سے زائد طالبان اہلکاروں کو ہلاک یا زخمی کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔
سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح کی قیادت میں گرین ٹرینڈ کے عسکری ونگ نے 8 حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ گروپ نے پنجشیر میں بھارتی ساختہ چیٹل ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ کیا، جس میں دو پائلٹ زخمی ہوئے۔ تاہم طالبان نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہیلی کاپٹر ناموزوں مقام پر اترنے کی کوشش کے دوران چٹان سے ٹکرا گیا تھا۔
رپورٹ میں دیگر چھوٹے مزاحمتی گروپوں کی کارروائیوں اور دو نئے گروپوں کے سامنے آنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافے کے باوجود ان گروپوں کو باہمی اختلافات اور رابطہ کاری کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔