تازہ ترین

کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاریوں کو حکومتی منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا گورنر بلوچستان `

0

گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ زلزلوں، سیلابوں، خشک سالی اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمتِ عملی، وسائل کا شفاف استعمال اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری ضروری ہے۔

قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں گورنر نے کہا کہ بلوچستان کو اکثر مختلف قدرتی آفات کا سامنا رہتا ہے، جن سے انسانی جانوں، بنیادی ڈھانچے، زراعت، مالداری اور عوام کے معاشی وسائل کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ ان حالات میں آفات سے نمٹنے کے لیے مختص فنڈز کا درست استعمال، اقدامات کے نتائج کا قابلِ پیمائش ہونا اور ان کے ثمرات عوام تک پہنچانا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو قدرتی آفات سے قبل حفاظتی اقدامات، بروقت امدادی کارروائیوں اور متاثرہ علاقوں کی بحالی پر یکساں توجہ دینی چاہیے۔ جدید سائنسی تحقیق، موسمیاتی پیش گوئی، دانشمندانہ منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے قدرتی آفات کے نقصانات نمایاں حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔

گورنر بلوچستان نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاریوں کو حکومتی منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ صوبے میں زیرِ زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح اور خشک سالی کے مسائل پر قابو پانے کے لیے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، چھوٹے ڈیم تعمیر کرنے، زیرِ زمین پانی کے پائیدار استعمال اور شجرکاری کے فروغ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے صوبائی اور ضلعی سطح پر اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری یقینی بنانے اور امدادی اداروں کی استعدادِ کار بڑھانے پر بھی زور دیا۔

جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں، متعلقہ اداروں، ماہرینِ ماحولیات اور مقامی آبادی کے باہمی تعاون سے ایسا جامع نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو بلوچستان کو قدرتی آفات کے خطرات سے بہتر طور پر نمٹنے اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.