پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے متعدد مواقع پر ان کے سامنے بامقصد اور بامعنی مذاکرات کرنے کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پُرامن احتجاج کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے سیاسی مسائل حل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ جس رات وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کیا گیا، وہ رات 11 بجے تک ان کے ساتھ رابطے میں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی رات انہوں نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس فوری طور پر بلانے کی تجویز بھی دی تھی۔
علی محمد خان کے مطابق خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر صوبے کے عوام اور وہاں رہنے والے افراد کو زیادہ تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ ہیں اور اس وقت ان کی توجہ لانگ مارچ پر مرکوز تھی۔
پی ٹی آئی رہنما نے اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کی گرفتاریوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے سیاسی معاملات مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں حکومت کس کی ہوگی، اس کا فیصلہ عوام کے مینڈیٹ کے مطابق ہونا چاہیے۔
علی محمد خان نے وفاقی حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان سے خیبر پختونخوا کے عوام میں وفاق کے حوالے سے دوریاں بڑھ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے بجائے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
لانگ مارچ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ سہیل آفریدی نے کیا تھا۔ ابتدا میں اس معاملے پر ان سے مشاورت نہیں ہوئی تھی، تاہم جب 5 اگست کو وزیراعلیٰ نے مارچ کا اعلان کیا تو پارٹی قیادت نے اس فیصلے کی حمایت کی۔
مذاکرات سے متعلق علی محمد خان نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی قیادت نے وفاقی حکومت کی دعوت پر مذاکرات کیے اور بیشتر معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہوگیا تھا، تاہم ان کے بقول رات کے وقت سیکیورٹی سے متعلق معاملات سامنے آنے کے بعد بات چیت آگے نہ بڑھ سکی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مذاکرات میں بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات، انہیں اسپتال منتقل کرنے اور سیاسی امور جیسے معاملات شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی معاملات پر الگ اور سیاسی مسائل پر الگ بات چیت کی جاسکتی تھی۔
علی محمد خان کے مطابق مذاکرات میں تعطل آنے کے باوجود بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی گنجائش موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ڈیڈلاک کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ بات چیت مکمل طور پر ختم کردی جائے، بلکہ وقفے کے بعد دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھا جاسکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بیرسٹر گوہر کا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے رابطہ تھا اور انہوں نے جمعہ کو اسپیکر سے ملاقات کی، جبکہ ہفتے کو بھی رابطے کی کوششیں جاری رکھیں۔