تازہ ترین

افغانستان کے 5 صوبوں میں طالبان مخالف مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی کا دعویٰ

0

کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جہاں گزشتہ 3 روز کے دوران ملک کے 5 صوبوں میں طالبان اہلکاروں اور چیک پوسٹوں کو مختلف کارروائیوں میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 9 ستمبر کو کپیسہ کے ضلع تگاب میں سابق افغان فوجی اڈے پر قائم طالبان کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ افغان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا کہ کارروائی کے نتیجے میں طالبان کے 3 اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔

11 ستمبر کو ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ میں افغان یونائیٹڈ فرنٹ نے طالبان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کیا، جس میں 2 اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔ اسی روز زابل میں طالبان کی 205ویں کور کی تیسری بریگیڈ سے وابستہ ایک رکن کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا۔

بدخشان کے ضلع یفتل پایان میں 10 ستمبر کو نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے طالبان کی ایک چیک پوسٹ پر حملے کا دعویٰ کیا۔ گروپ کے مطابق تقریباً 40 منٹ تک جاری رہنے والی جھڑپ کے دوران طالبان کے 3 اہلکار زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق مزاحمتی سرگرمیوں کا دائرہ مسلح کارروائیوں تک محدود نہیں رہا۔ ہرات میں 11 ستمبر کو افغان یونائیٹڈ فرنٹ کی جانب سے شہر کے 28 مقامات پر مزاحمتی قیادت کے پیغامات اور مذہبی علما کے فتوے تقسیم کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

ان مقامات میں لالہ مارکیٹ، قلعہ اختیارالدین، مصطفیٰ چوک، باغ ملت اور چہار باغ بھی شامل تھے۔ تاہم رپورٹ میں بیان کیے گئے مزاحمتی گروپوں کے جانی نقصان سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.