تازہ ترین

پی آئی اے کی نجکاری، بولی اور حکومتی منظوریوں کو چیلنج کردیا گیا

0

اسلام آباد: پی آئی اے کی نجکاری کا عمل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا، جس پر عدالت نے وفاق اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں رپورٹ اور پیراوائز کمنٹس طلب کرلیے۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔ عدالت نے تحریری دلائل ریکارڈ پر لانے سے متعلق متفرق درخواست بھی منظور کرلی جبکہ کیس کی مزید سماعت اکتوبر 2026 کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی۔

پیپلز یونٹی کی جانب سے دائر درخواست میں 23 دسمبر 2025 کو ہونے والی پی آئی اے کی بولی اور عارف حبیب کنسورشیم کو کامیاب قرار دینے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔

درخواست میں کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اور وفاقی کابینہ کی دسمبر 2025 کی منظوریوں کو بھی عدالت میں چیلنج کیا گیا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ پی آئی اے سی کنورژن ایکٹ 2016 کی مدت 30 جون 2025 کو ختم ہوچکی تھی، جبکہ حکومت نے ایکٹ کی مدت میں توسیع کا گزٹ نوٹیفکیشن 6 مارچ 2026 کو جاری کیا۔ درخواست گزار کے مطابق اس دوران ہونے والی کارروائیاں اور بولی قانونی طور پر درست نہیں۔

درخواست میں یہ بھی مؤقف اپنایا گیا کہ نجکاری کے لیے تازہ ویلیوایشن کے بجائے 2015 کی پرانی ویلیوایشن استعمال کی گئی اور معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے بھی پیش نہیں کیا گیا۔

پیپلز یونٹی کے مطابق بینظیر ایمپلائز اسٹاک آپشن اسکیم کے تحت پی آئی اے ملازمین ادارے میں 12 فیصد شیئرز کے مالک ہیں، تاہم اس اہم اسٹیک ہولڈر سے مشاورت کے بغیر نجکاری کا عمل آگے بڑھایا گیا۔

درخواست میں بولی کے طریقہ کار پر بھی اعتراض اٹھایا گیا اور کہا گیا کہ کنسورشیم میں شامل ایک کمپنی ابتدائی بولی میں حصہ لینے کے بعد دستبردار ہوئی اور بعد میں اسی کنسورشیم کا حصہ بن کر بغیر بولی کے شیئرز حاصل کیے، جس سے مسابقتی عمل متاثر ہوا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.