’ٹائیگر زندہ ہے‘ میں قومی ترانہ گانے کی آفر ہوئی تھی، نتاشا بیگ کا انکشاف
لاہور: پاکستانی گلوکارہ اور نغمہ نگار نتاشا بیگ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں بالی ووڈ کی مقبول فلم ’ٹائیگر زندہ ہے‘ کے آخری حصے کے ایک اہم منظر میں قومی ترانہ گانے کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے باعث یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کرسکا۔
حال ہی میں ایک یوٹیوب پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نتاشا بیگ نے بتایا کہ پاک بھارت تعلقات خراب ہونے سے پہلے انہیں بالی ووڈ سے ایک بڑی پیشکش موصول ہوئی تھی۔ ان کے مطابق فلم کے اختتام پر ایک ایسا منظر شامل تھا جس میں قومی ترانہ پیش کیا جانا تھا اور اس مقصد کیلئے انہیں چند دیگر پسِ پردہ گلوکاروں کے ساتھ پرفارم کرنے کیلئے رابطہ کیا گیا تھا۔
نتاشا بیگ نے بتایا کہ جب انہیں اس پیشکش کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ حیران ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد خوش بھی ہوئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ واقعی بالی ووڈ کی ایک بڑی فلم کیلئے ان سے رابطہ کیا گیا ہے۔
گلوکارہ کے مطابق اس منصوبے کے حوالے سے تیاریاں اور دیگر انتظامات بھی طے کیے جا چکے تھے، تاہم اسی دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی، جس کے بعد یہ منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔
نتاشا بیگ نے کہا کہ یہ بالی ووڈ کی جانب سے انہیں موصول ہونے والی پہلی اور آخری پیشکش تھی، جس کے بعد اس معاملے پر مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
’ٹائیگر زندہ ہے‘ دسمبر 2017 میں ریلیز ہوئی تھی۔ فلم کی ہدایت کاری علی عباس ظفر نے کی جبکہ سلمان خان اور کترینہ کیف نے مرکزی کردار ادا کیے۔ یہ فلم 2012 میں ریلیز ہونے والی ’ایک تھا ٹائیگر‘ کا سیکوئل تھی۔
پاکستانی فنکاروں پر بھارتی فلم انڈسٹری میں پابندی کے باوجود پاکستانی گلوکار عاطف اسلم نے بھی اس فلم کیلئے مقبول گانا ’دل دیاں گلاں‘ گایا تھا، جسے شائقین کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔
گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ سے تعلق رکھنے والی نتاشا بیگ صوفی راک، لوک اور کلاسیکی موسیقی میں اپنی منفرد شناخت رکھتی ہیں۔ انہوں نے 2013 میں ایک موسیقی کے مقابلے کے ذریعے شہرت حاصل کی، جبکہ بعد میں کوک اسٹوڈیو پاکستان میں ’شکوہ‘ کی پرفارمنس سے بھی انہیں نمایاں پذیرائی ملی۔