رواں سال 3 لاکھ سے زائد پاکستانی بہتر مستقبل کیلئے بیرون ملک روانہ
لاہور: پاکستان سے روزگار اور بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک جانے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران 3 لاکھ 17 ہزار 436 پاکستانی روزگار کے حصول کے لیے مختلف ممالک روانہ ہوئے، جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، سافٹ ویئر انجینئرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور مختلف شعبوں سے وابستہ ہنرمند افراد شامل ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانیوں میں سب سے بڑی تعداد سعودی عرب جانے والوں کی رہی۔ ایک لاکھ 83 ہزار 951 پاکستانی روزگار کے لیے سعودی عرب گئے، جبکہ متحدہ عرب امارات 50 ہزار 773 افراد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔
قطر میں 34 ہزار 25 پاکستانی روزگار کے لیے گئے، جبکہ بحرین میں 13 ہزار 329 اور ترکیہ میں 4 ہزار 673 پاکستانی ورکرز روانہ ہوئے۔ اس کے علاوہ قبرص، یونان، برطانیہ اور ملائیشیا بھی پاکستانی افرادی قوت کے لیے اہم destinations میں شامل رہے۔
رپورٹ کے مطابق 3 لاکھ 16 ہزار 848 افراد نے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BE&OE) کے ذریعے رجسٹریشن کروائی، جبکہ اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (OEC) کے ذریعے 588 افراد کو بیرون ملک ملازمت کے مواقع حاصل ہوئے۔
ذرائع کے مطابق بیرون ملک روزگار کے خواہشمند مزید ہزاروں پاکستانی سفری اور ملازمت سے متعلق ضروری دستاویزات مکمل کرنے کے لیے مختلف سرکاری اداروں سے رابطے میں ہیں۔ دوسری جانب ایئرپورٹس پر بھی بیرون ملک جانے والے مسافروں کو مختلف مراحل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق بیرون ملک روزگار کے لیے پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک طرف ملک سے ہنرمند افرادی قوت کے انخلا کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم دوسری جانب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی remittances ملکی معیشت کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں روزگار کے بہتر مواقع پیدا کیے جائیں تو ہنرمند افرادی قوت کے بیرون ملک جانے کے رجحان کو کم کیا جا سکتا ہے۔