امریکا میں سالمونیلا وائرس کا پھیلاؤ، علامات اور احتیاطی تدابیر
واشنگٹن : امریکا کی متعدد ریاستوں میں جلاپینو مرچوں کے سبب سالمونیلا بیکٹیریا سے متاثرہ سیکڑوں افراد بیمار ہوکر اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں آلودہ بند گوبھی کے پتوں اور جالپینو مرچوں سے پھیلنے والی بیماریاں سائیکلو اسپوریاسس اور سالمونیلا ہیں جن سے اب تک ہزاروں افراد متاثر ہوچکے ہیں جن میں سے متعدد افراد کی حالت تشویشناک ہے۔
رپورٹ کے مطابق سالمونیلا وائرس نہیں بلکہ ایک خطرناک جراثیم (بیکٹیریا) ہے جو آنتوں کو متاثر کرتا ہے اور معدے و نظامِ ہضم کی شدید بیماریوں (جیسے فوڈ پوائزننگ اور ٹائیفائیڈ) کا سبب بنتا ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ دنیا بھر میں اسہال اور پیٹ کی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔
امریکی صحت حکام کے مطابق اب تک 27 ریاستوں میں 345 افراد سالمونیلا جاویانا سے متاثر ہوچکے ہیں، جبکہ 36 افراد کو اسپتال داخل کرانا پڑا ہے، وبا کے باعث تاحال کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی، تاہم متعلقہ ادارے اس بیماری کا سراغ لگانے میں مصروف عمل ہیں۔
متعلقہ حکام کے مطابق متاثرہ جالپینو مرچیں میکسیکو کی ریاست سِنالوا سے امریکا پہنچیں اور انہیں کوسٹ اسِٹرس ڈسٹری بیوٹرز نے مختلف ڈسٹری بیوٹرز، ریستورانوں اور فوڈ سروس کمپنیوں کو فراہم کیا، جن میں میکسیکن طرز کے ریستوران بھی شامل ہیں۔
بیشتر مریضوں نے بیماری کی علامات ظاہر ہونے سے قبل میکسیکن طرز کے ریستورانوں میں کھانا کھانے کی اطلاع دی، متاثرہ افراد میں بعض ایسے صارفین بھی شامل ہیں جنہوں نے چِپوٹلے میکسیکن گرِل اور کیوڈوبا میں کھانا کھایا تھا، وبا کی اطلاع ملنے کے بعد دونوں ریستورانوں نے متاثرہ جالپینو مرچوں کا استعمال روک دیا ہے۔
سالمونیلا کیا ہے؟
سالمونیلا ایک قسم کے بیکٹیریا ہیں جو سالمونیلاسس نامی غذائی بیماری کا سبب بن سکتے ہیں، اس انفیکشن کی عام علامات میں دست، بخار اور پیٹ میں مروڑ یا درد شامل ہیں۔
آلودہ غذا کھانے کے عموماً 12 سے 72 گھنٹے کے اندر علامات ظاہر ہوسکتی ہیں اور بیماری عام طور پر4 سے 7 دن تک برقرار رہتی ہے۔
چھوٹے بچے، بزرگ اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں انفیکشن شدید ہونے اور پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
سی ڈی سی کے مطابق امریکا میں سالمونیلا ہر سال تقریباً 13 لاکھ افراد کو متاثر کرتا ہے اور یہ ملک میں غذائی بیماریوں کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔
احتیاطی تدابیر
ایف ڈی اے نے ڈسٹری بیوٹرز، ریستورانوں اور فوڈ سروس اداروں کو ہدایت کی ہے کہ کوسٹ سِٹرس ڈسٹری بیوٹرز کی جانب سے میکسیکو کی سِنالوا سے درآمد کی گئی تازہ جالپینو مرچیں فروخت یا استعمال نہ کی جائیں۔
اگر کسی صارف کے پاس ایسی جالپینو مرچیں موجود ہیں جنہیں فریز کرکے محفوظ کیا گیا تھا تو انہیں بھی ضائع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، خصوصاً ایسی صورت میں جب ان کے سپلائر کی تصدیق نہ ہوسکے۔
حکام نے ریستورانوں اور دکانداروں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ ان مرچوں کے رابطے میں آنے والی سطحوں، برتنوں اور کنٹینرز کو اچھی طرح صاف اور جراثیم سے پاک کیا جائے تاکہ آلودگی دوسری غذاؤں تک منتقل نہ ہو۔
اگر کسی شخص نے حال ہی میں میکسیکن طرز کے ریستوران میں کھانا کھایا ہو اور اس کے بعد سالمونیلا سے ملتی جلتی علامات ظاہر ہوں تو اسے طبی مشورہ حاصل کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ امریکی حکام پہلے ہی ایک اور کثیر ریاستی سائیکلو اسپورائسس وبا کی بھی تحقیقات کررہے ہیں، جو لیٹش سے منسلک ہے۔ یوں امریکا میں حالیہ عرصے کے دوران غذائی اشیا سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے متعدد واقعات نے صحت حکام کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔