تازہ ترین

پاکستان میں غربت کی شرح 2025 میں 29 فیصد تک پہنچ گئی:عالمی بینک کی رپورٹ

0

پاکستان کو روزگار کی فراہمی، غربت میں اضافے اور معاشی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے حوالے سے اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے حوالے سے تجزیہ کار شہباز رانا نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک ہر سال 36 لاکھ افراد کے لیے روزگار پیدا کرنے میں ناکام رہ سکتا ہے، جبکہ غربت کی شرح بھی گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ’’دی ریویو‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شہباز رانا نے بتایا کہ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 2019 میں 22 فیصد تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 29 فیصد تک پہنچ گئی۔ ان کے مطابق گزشتہ مالی سال کے آخری تین ماہ میں معاشی ترقی کی شرح صرف 2 فیصد رہی، جبکہ سالانہ شرح نمو 3.65 فیصد تک محدود رہی۔ عام پاکستانی کی مجموعی فی کس آمدن میں اضافہ بھی صرف 1.6 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

شہباز رانا کے مطابق حقیقی مؤثر شرح تبادلہ میں 10 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اگست 2026 میں مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ درآمدات کا حجم برآمدات سے زیادہ ہونے کے باعث بیرون ملک سے موصول ہونے والی ترسیلات زر ملکی معیشت کے لیے اہم سہارا ہیں۔

ان کے مطابق عالمی بینک نے روپے اور ڈالر سے متعلق پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے مارکیٹ کے مطابق لچکدار شرح تبادلہ مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔ رپورٹ کی پیشگوئی کے مطابق موجودہ مالی سال میں معاشی ترقی کی شرح 3.8 فیصد اور انتخابی سال میں 4.4 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ بڑے معاشی اصلاحاتی اقدامات کے ذریعے شرح نمو 6.2 سے 6.9 فیصد تک پہنچائی جا سکتی ہے۔

عالمی بینک نے معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث پاکستان کے درآمدی بل، مہنگائی اور تجارتی خسارے میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

شہباز رانا نے مزید بتایا کہ قومی اکاؤنٹس کمیٹی نے درآمدی اعداد و شمار میں پانچ مالی سالوں کے لیے نظرثانی کی منظوری دی ہے۔ ان کے مطابق اس نظرثانی کے نتیجے میں قومی آمدن اور فی کس آمدن کے تخمینوں پر اثر پڑنے کا امکان ہے، جبکہ درآمدی اعداد و شمار میں نظرثانی کے بعد درآمدات کے حجم میں 14.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.