چین میں 16 کروڑ سال پرانا دیوہیکل ممالیہ نما جانور دریافت
چینی سائنسدانوں کی قیادت میں بین الاقوامی ٹیم نے شمال مشرقی چین سے 160 ملین سال پرانا جراسک دور کا سب سے بڑا ڈوکوڈونٹ فوس
دریافت کی جانے والی نئی نوع کومیگاکوئڈا سنگئی کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا فوسل نمونہ شمالی چین کے علاقے اندرونی منگولیا کے قصبے ننگ چینگ سے ملا ہے۔
ل دریافت کر کے ممالیہ کی تنوع کے نئے ابواب کھول دیے ہیں۔
سائنسدانوں نے چین کی تاریخی جراسک چٹانوں سے ایک انتہائی نایاب اور اہم فوسل دریافت کیا ہے جو دورِ قدیم کے ممالیہ نما جانوروں کی زندگی، سائز اور عادتوں سے متعلق معلومات میں انقلابی اضافہ کر رہا ہے۔
یہ جانور اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا ڈوکوڈونٹ ممالیہ نما شمار ہو رہا ہے۔ اس کی کل لمبائی تقریباً 52 سینٹی میٹر اور وزن کا اندازہ 2 کلوگرام لگایا گیا ہے۔
فوسل میں اس کی کھوپڑی واضح طور پر محفوظ ہے، دھڑ مضبوط ہے جبکہ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت ایک غیر معمولی طور پر لمبی اور مڑی ہوئی دم ہے۔
سائنسدانوں کو ملنے والے اس نمونے میں ہپ بونز (پیلوک بونز)، عقبی ٹانگیں اور دم کے مہرے بہترین حالت میں ملے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ جانور پانی میں تیرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اپنے مخصوص اور تیز دانتوں کی مدد سے یہ اپنے اردگرد پائے جانے والے چھوٹے جانوروں کا شکار کرتا تھا۔ اس کی طرزِ زندگی کی مشابہت موجودہ دور کے مادہ ممالیہ ’پلیٹیپس‘سے دی جا رہی ہے۔
اس تحقیق نے جانور کے گلے کی ساخت پر بھی اہم روشنی ڈالی ہے۔ اس کے گلے کی ہڈیاں جدید ممالیہ جانوروں سے کافی ملتی جلتی ہیں، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ نگلنے، چاٹنے اور دودھ چوسنے جیسے افعال جدید ممالیہ گروہوں کے نمودار ہونے سے بہت پہلے ہی ممالیہ کے ابتدائی اجداد میں موجود تھے۔
چین کی شین یانگ نارمل یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر لی ایکون کا اس دریافت پر کہنا ہے کہ عموماً میسوزوئک دور کے ممالیہ نما جانوروں کو ڈائنوسارز کے قدموں تلے رہنے والی انتہائی چھوٹی مخلوق تصور کیا جاتا تھا، لیکن ‘میگا کوڈا سونگی’ نے اس گروہ کے جثے اور سائز کی تمام حدوں کو واضح طور پر بڑھا دیا ہے۔