غزہ میں اسکولوں اور جامعات پر حملے، 20 ہزار سے زائد طلبہ و تعلیمی کارکن جاں بحق
غزہ: غزہ میں جاری جنگ کے دوران طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی عملے کی ہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے، جبکہ بڑی تعداد میں اسکولوں اور جامعات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
فلسطینی محکمہ تعلیم کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران اسکولوں اور جامعات کے 20 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ تعلیمی عملے کے سیکڑوں افراد بھی جان سے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غزہ میں 805 اساتذہ اور 246 یونیورسٹی عملے کے افراد بھی ہلاک ہوئے، جبکہ ہزاروں طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی کارکن زخمی ہوئے ہیں۔
تعلیمی اداروں کو پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں متعدد اسکولوں اور جامعات کی عمارتیں بمباری کے باعث تباہ ہوئیں، جس سے بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم کا سلسلہ شدید متاثر ہوا۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کے تعلیمی نظام کو پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں لاکھوں بچوں کا تعلیمی مستقبل متاثر ہوا ہے اور اکتوبر 2023 سے اب تک متعدد تعلیمی سال متاثر ہوچکے ہیں۔
فلسطینی حکام کے مطابق تعلیمی عملے کے ہزاروں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جبکہ جنگ کے باعث اسکولوں اور جامعات میں معمول کی تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہیں۔