اسلام آباد: دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ کے ساحل کے قریب ہائی جیک کیے گئے بحری جہاز MT Honour 25 کی بازیابی کے آپریشن کے دوران جاں بحق ہونے والے تین پاکستانی عملے کے ارکان کی میتیں وطن واپس لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سجّاد حیدر خان نے واقعے میں پانچ عملے کے ارکان کی ہلاکت پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں میں رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری شامل ہیں۔
ترجمان کے مطابق واقعے میں عملے کے مزید چار ارکان زخمی ہوئے، جن میں تین پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ زخمی افراد کو ابتدائی طور پر بندر بیلا منتقل کیا گیا، جس کے بعد انہیں گاروے پہنچایا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
سجّاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستانی حکومت صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ زخمیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی، جاں بحق افراد کی میتیں وطن واپس لانے اور زندہ بچ جانے والے پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جاسکے۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی سفارتی حکام گاروے میں موجود ہیں اور اسپتال میں زیر علاج عملے کے ارکان سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
ان کے مطابق جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں اس وقت گاروے میں پاکستانی سفارتی حکام کی تحویل میں ہیں۔ انہیں ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا کے راستے ایتھوپین ایئرلائنز کے ذریعے پاکستان منتقل کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ میتوں کی وطن واپسی کا حتمی وقت مقامی قانونی کارروائی مکمل ہونے اور زخمی عملے کی طبی صورتحال سے متعلق انتظامات پر منحصر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی سفارتخانہ اور حکومت جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں جلد از جلد وطن پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، جبکہ زخمی عملے کو مناسب طبی امداد کی فراہمی بھی جاری رکھی جائے گی۔