تازہ ترین

سہیل آفریدی کے انتخاب کے خلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

0

اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے انتخاب کو چیلنج کرنے والی درخواست پر وفاقی آئینی عدالت نے ابتدائی سماعت کیلئے درخواست منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے ہیں، جبکہ عدالت نے قانونی معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو بھی طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔ سہیل آفریدی کے بطور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا انتخاب کے خلاف درخواست شیر افضل مروت نے دائر کی ہے، جس میں علی امین گنڈاپور کی بطور وزیراعلیٰ بحالی کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ علی امین گنڈاپور نے رضاکارانہ طور پر وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر ان سے استعفیٰ لیا گیا۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ مقدمے میں آئینی نکتہ کیا ہے، جس پر شیر افضل مروت نے جواب دیا کہ آئین کی منشا یہ ہے کہ کوئی عوامی عہدیدار رضاکارانہ طور پر ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہو۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ علی امین گنڈاپور نے اپنے استعفے میں بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر مستعفی ہونے کا ذکر کیا تھا، جبکہ گورنر نے ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق دو روز بعد ایک اور استعفیٰ بھی دیا گیا، تاہم اسے بھی گورنر کی جانب سے منظور نہیں کیا گیا۔ اس موقع پر جسٹس علی باقر نجفی نے بھی ریمارکس دیئے کہ دوسرا استعفیٰ بھی شاید منظور نہیں کیا گیا تھا۔

شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کیلئے گورنر کی جانب سے استعفیٰ منظور کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے نوازشریف پارٹی صدارت کیس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ نااہل شخص کسی پراکسی کے ذریعے ریاستی امور نہیں چلا سکتا۔

درخواست گزار نے مزید کہا کہ جب بانی پی ٹی آئی نے علی امین گنڈاپور کو استعفیٰ دینے کی ہدایت کی تو وہ نااہل تھے، لہٰذا نااہل شخص کی ہدایت پر پراکسی کے ذریعے ریاستی امور چلانا آئین کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے درخواست کو ابتدائی سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے، جبکہ عدالتی معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کیا گیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.