تازہ ترین

شہباز شریف کا محمد بن سلمان سے رابطہ، علاقائی کشیدگی کم کرنے کیلئے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق

0

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے سعودی عرب کی شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حالیہ حوثی حملوں کی شدید مذمت کی اور سعودی قیادت و عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حوثیوں کے حملے علاقائی امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہیں اور ان سے عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی میں مزید خلل پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی موجودہ صورتحال میں ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت کو دانشمندانہ اور دوراندیش قرار دیتے ہوئے سراہا۔

شہباز شریف نے کہا کہ وہ، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

وزیراعظم نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کیلئے بھی اپنی نیک خواہشات اور احترام کا پیغام پہنچایا۔ اس موقع پر محمد بن سلمان نے سعودی عرب کیلئے پاکستان کی مستقل حمایت اور خطے میں امن و استحکام کیلئے اس کی کوششوں کو سراہا۔

دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور جلد ملاقات کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔

یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے توانائی کے مراکز اور مختلف شہروں پر حملوں میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں، جس سے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے وسیع تر علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے حالیہ حملے خلیج میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش خطرات کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں، جبکہ حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی 6 ہفتوں کی بلند ترین سطح سے تجاوز کرگئیں۔

پاکستان کیلئے موجودہ صورتحال اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ سعودی عرب کے دفاعی شراکت دار کے ساتھ ساتھ واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کے ایک اہم ذریعے کا کردار بھی ادا کرتا رہا ہے۔ حالیہ کشیدگی نے اسلام آباد کیلئے ان دونوں تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کے چیلنج کو مزید بڑھا دیا ہے۔

گزشتہ ماہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ بھی طے پایا تھا، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کیلئے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر سے گزرنے والی تیل و گیس کی ترسیل پر بھی انحصار کرتا ہے، جبکہ ایران اور حوثیوں کی جانب سے ان اہم بحری راستوں میں خلل ڈالنے کی صلاحیت نے اسلام آباد کیلئے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.