حوثیوں کی بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد یمن میں 76 ہزار افراد بے گھر
صنعا: یمن میں حکومتی فورسز اور ایران کے اتحادی حوثیوں کے درمیان جاری لڑائی میں شدت کے باعث بے گھری کا بحران سنگین ہوگیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جولائی میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سے یمن میں کم از کم 76 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران لڑائی میں شدت آنے کے بعد بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوا ہے، جس سے یمن میں انسانی بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے یمن میں تیزی سے بڑھتے ہوئے بے گھری کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعدد خاندان رات کے وقت اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں اور ان کے پاس محفوظ پناہ لینے کیلئے مناسب جگہ موجود نہیں۔
تنظیم کے مطابق حالیہ نقل مکانی زیادہ تر یمن کے مغربی ساحلی علاقوں اور تعز صوبے میں ہوئی ہے، جہاں جاری لڑائی نے بڑی تعداد میں شہری خاندانوں کو متاثر کیا ہے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق تعز صوبہ موجودہ بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں مختلف علاقوں میں تقریباً 8 ہزار 300 خاندان بے گھر ہوچکے ہیں۔ ان خاندانوں میں لگ بھگ 50 ہزار افراد شامل ہیں۔
اقوام متحدہ اور متعلقہ اداروں نے یمن میں بڑھتی ہوئی نقل مکانی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مسلسل لڑائی کے باعث مزید شہری اپنے گھروں سے محروم ہوسکتے ہیں، جبکہ محفوظ پناہ گاہوں کی کمی انسانی مشکلات میں مزید اضافہ کرسکتی ہے۔