مسلم امہ کو کمزوری سے طاقت کی طرف بڑھنا ہوگا، احسن اقبال
لاہور: وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے اور اپنی کھوئی ہوئی طاقت دوبارہ حاصل کرنے کیلئے اجتماعی خود احتسابی، مضبوط مسلم شناخت اور سیرتِ طیبہؐ کی تعلیمات پر عملی طور پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔
وہ ہفتے کے روز نثار فاطمہ انسٹی ٹیوٹ برائے سیرت و خواتین مطالعات میں منعقدہ قومی خواتین سیرت کانفرنس 2026 سے خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس کا موضوع ’’سیرتِ نبویؐ کی روشنی میں اسلامی نشاۃِ ثانیہ میں مسلم خواتین کا کردار‘‘ تھا۔
احسن اقبال نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ شرکا کو نبی کریم حضرت محمدؐ کی حیاتِ مبارکہ اور تعلیمات پر غور و فکر کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ سیرتِ طیبہؐ مسلم امہ کیلئے بہترین رہنمائی اور روشنی کا ذریعہ ہے، اس لیے مسلمانوں کو آپؐ کے کردار و حیات سے رہنمائی لے کر ان تعلیمات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم دنیا اس وقت ایک انتہائی تکلیف دہ دور سے گزر رہی ہے اور مختلف خطوں میں مسلمانوں کو سنگین حالات کا سامنا ہے۔ انہوں نے بالخصوص فلسطینی عوام کی مسلسل مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مسلم امہ کی بے بسی ایک سنجیدہ سوال ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ تقریباً ایک کروڑ آبادی رکھنے والا اسرائیل تقریباً دو ارب مسلمانوں کو دفاعی پوزیشن میں رکھنے میں کامیاب ہے اور مسلمانوں پر حملے اور خونریزی کا سلسلہ جاری ہے، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات صرف تشویش کے اظہار کے بجائے مسلم امہ سے اپنی کمزوریوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کا تقاضا کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو اجتماعی خود احتسابی کے ذریعے یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ زوال سے ترقی اور کمزوری سے طاقت کی طرف کیسے بڑھ سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم دنیا اس وقت تک اپنی کھوئی ہوئی طاقت بحال نہیں کرسکتی جب تک وہ اپنی شناخت، اقدار اور اجتماعی ذمہ داریوں کا مضبوط اور شعوری ادراک پیدا نہیں کرتی۔ مضبوط شناخت مسلمانوں میں اعتماد، اتحاد اور اجتماعی قوت کی بحالی کیلئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ نبی کریمؐ نے انسانیت کو انفرادی اور اجتماعی زندگی کا ایک جامع نمونہ عطا کیا، جبکہ آپؐ کی تعلیمات علم، انصاف، اتحاد، نظم و ضبط، رحم دلی اور ذمہ داری پر مبنی معاشرے کی تشکیل کیلئے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ تہذیبیں دو بنیادی ستونوں پر قائم ہوتی ہیں، اپنی شناخت کا واضح شعور اور ایک مضبوط مقصد۔ جب کوئی تہذیب اپنی شناخت سے آگاہی کھو دیتی ہے تو وہ دوسروں کی نقالی شروع کردیتی ہے اور رفتہ رفتہ اپنا تشخص کھو دیتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقصد سے محرومی معاشرے کو انتشار کا شکار کرکے اسے صرف انفرادی اور مادی مفادات تک محدود کردیتی ہے، جس سے اعلیٰ مقاصد پسِ پشت چلے جاتے ہیں اور معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہونے لگتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم امہ کو اپنی شناخت دوبارہ دریافت کرنے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے دیے گئے اعلیٰ مقصد کی طرف واپس آنے کیلئے دونوں بنیادی ستونوں کو مضبوط کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی کے بغیر مسلمان ماضی کی اپنی طاقت اور مقام دوبارہ حاصل نہیں کرسکتے۔
احسن اقبال نے زور دیا کہ سیرتِ نبویؐ کے پیغام، کردار اور تعلیمات کو سمجھنے کیلئے نئے سرے سے کوششیں کی جائیں اور محض زبانی عقیدت کے اظہار کے بجائے سیرتِ طیبہؐ کے اصولوں کو عملی زندگی اور معاشرتی اصلاح میں نافذ کیا جائے۔
انہوں نے بالخصوص مسلم خواتین پر زور دیا کہ وہ سیرتِ نبویؐ کی تعلیمات اور اقدار کے فروغ میں فعال کردار ادا کریں، کیونکہ خاندانوں کی تشکیل، بچوں کی تربیت اور مستقبل کی نسلوں کی پرورش میں خواتین کا اہم کردار ہے۔