افغانستان میں داعش خراسان پھر خطرناک ہوگئی؟ روس نے عالمی برادری کو خبردار کردیا
نیویارک: افغانستان میں داعش خراسان کی موجودگی اور جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال نے عالمی سطح پر ایک بار پھر سیکیورٹی خدشات کو نمایاں کردیا ہے، روس نے دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کو سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مربوط اقدامات پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبنزیا نے کہا کہ افغانستان سمیت افریقہ کے بعض علاقوں میں دہشتگردی کا خطرہ بدستور موجود ہے اور مختلف خطوں میں سرگرم شدت پسند گروہوں کے درمیان روابط عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہے ہیں۔
روسی مندوب نے کہا کہ غیر ملکی دہشتگرد جنگجوؤں کی ایک خطے سے دوسرے خطے میں منتقلی اور جنگی تجربات کا مختلف علاقوں تک پھیلاؤ اب بھی تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق دہشتگرد تنظیمیں اپنی سرگرمیوں کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے جدید ذرائع اور ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
واسیلی نیبنزیا کے مطابق دہشتگرد گروہ بھرتی، تشہیر، مالی معاونت اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے ڈیجیٹل مالیاتی ذرائع، ڈرونز، مصنوعی ذہانت اور جدید مواصلاتی نظام کا استعمال بڑھا رہے ہیں، جس سے ان کے خلاف کارروائیوں کے لیے روایتی طریقہ کار کافی نہیں رہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کا خطرہ کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جاسکتے ہیں، اس لیے دہشتگردی کے خلاف عالمی سطح پر مؤثر، مسلسل اور مربوط تعاون ناگزیر ہے۔
روسی مندوب کے مطابق داعش خراسان نے گزشتہ برسوں کے دوران افغانستان میں متعدد مہلک حملے کیے ہیں جبکہ تنظیم نے افغانستان سے باہر بھی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش خراسان اب بھی ایک سنجیدہ سیکیورٹی خطرہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔