تازہ ترین

داعش سے مبینہ تعلق، افغان نژاد خاتون امریکا سے ڈی پورٹ

0

واشنگٹن: امریکا میں دہشت گردی اور قومی سلامتی سے متعلق خفیہ شواہد کی بنیاد پر قائم خصوصی عدالت کے تحت پہلی کارروائی میں افغان نژاد خاتون نظیرہ حاجی زادہ کو ملک بدر کردیا گیا۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 47 سالہ نظیرہ حاجی زادہ نے مقدمے کی مزید قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کے بجائے امریکا چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کی، جس کے بعد ان کی ملک بدری عمل میں لائی گئی۔

یہ خصوصی عدالت 1996 میں قائم کی گئی تھی اور اس کا مقصد ایسے غیر ملکی شہریوں کے معاملات کی سماعت کرنا ہے جن کے خلاف دہشت گردی یا قومی سلامتی سے متعلق خفیہ شواہد موجود ہوں۔ امریکی حکام کے مطابق نظیرہ حاجی زادہ کے خلاف اس عدالت کے تحت یہ پہلا مقدمہ تھا۔

نظیرہ حاجی زادہ ٹیکساس میں قانونی طور پر مستقل رہائش پذیر تھیں، تاہم ان کے خلاف کسی فوجداری جرم کا باقاعدہ الزام عائد نہیں کیا گیا تھا۔ امریکی استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے اپنے خاندان کے بعض افراد کو انتہا پسند نظریات کی جانب مائل کرنے میں کردار ادا کیا۔

حکام کے مطابق ان کے بیٹے عبداللہ حاجی زادہ اور داماد ناصر احمد توحید کو 2024 کے صدارتی انتخابات کے روز بڑے پیمانے پر فائرنگ کی منصوبہ بندی کے جرم میں سزا سنائی جاچکی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ داعش سے متاثر ہوکر تیار کیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق نظیرہ حاجی زادہ نے خود کو غیر ملکی دہشت گرد تسلیم کرتے ہوئے ملک بدری کے حکم کے خلاف اپیل کا حق بھی ترک کردیا، جس کے بعد امریکا میں ان کی امیگریشن حیثیت ختم کردی گئی۔

امریکی اٹارنی جنرل ٹڈ بلانش نے کارروائی کو قومی سلامتی اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کے لیے امریکا میں کوئی جگہ نہیں۔

دوسری جانب نظیرہ حاجی زادہ کے وکلا نے کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی موکلہ کو مقدمے میں پیش کیے گئے خفیہ شواہد تک رسائی نہیں دی گئی، جو ان کے بقول امریکی آئین میں دیے گئے حقِ دفاع سے متصادم ہے۔

وکلائے صفائی کے مطابق حاجی زادہ کی جانب سے ملک بدری قبول کرنے کا مقصد خصوصی عدالت کے قانونی اختیار کو تسلیم کرنا نہیں بلکہ خفیہ شواہد کی بنیاد پر ہونے والی کارروائی کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ وکلا نے عندیہ دیا ہے کہ مستقبل میں اس عدالت کی آئینی حیثیت کو عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.