اسلام آباد: نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث کے دوران سیاسی رہنما مشاہد حسین سید نے خبردار کیا ہے کہ ملک کو مزید انتظامی تقسیم کی جانب لے جانے کی تجاویز پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرسکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات ملک کے مخالف عناصر کے عزائم کو تقویت دینے کا باعث بن سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مشاہد حسین سید نے کہا کہ ’’بلی تھیلے سے باہر آچکی ہے‘‘۔ انہوں نے اپنے مؤقف کی وضاحت کے لیے سابق امریکی سیاست دان پال کریگ رابرٹس کی ایک پوڈکاسٹ بھی شیئر کی، جس میں پاکستان کے علاقائی کردار اور عالمی طاقتوں کی پالیسیوں سے متعلق مختلف دعوے کیے گئے تھے۔
مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ایک سینئر امریکی اہلکار کی جانب سے خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے، اس لیے نئے صوبوں کے حامیوں کو ایسے عناصر کے ہاتھوں میں نہیں کھیلنا چاہیے جو مسلم دنیا کے جغرافیائی نقشے میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق بغیر سوچے سمجھے نئے صوبوں کی تجاویز پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرسکتی ہیں۔
انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کو امریکا اور اسرائیل سے متعلق علاقائی تنازعات میں الجھانے کے ساتھ ملک کے اندر صوبائیت کو بھی ہوا دینے کی کوششیں کی جاسکتی ہیں، جس سے وفاق کمزور اور اس کا انتظامی کنٹرول محدود ہونے کا خدشہ ہے۔
مشاہد حسین سید نے کہا کہ ان کے خیال میں اسرائیل اور اس کے اتحادی پاکستان، ترکیہ اور ایران جیسے بڑے مسلم ممالک کو تقسیم کرکے کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کی علیحدگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بڑی ریاستوں کی تقسیم کے نتیجے میں نئے ممالک وجود میں آئے۔
انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو اندرونی انتشار اور مزید تقسیم کے بجائے اپنے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور قومی یکجہتی پر توجہ دینی چاہیے۔