تازہ ترین

بحری جہازوں پر حملوں کی نئی لہر، خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگیا

0

تہران/واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ میں ایک ماہ کے نسبتاً سکون کے بعد بحری محاذ پر اچانک کشیدگی بڑھ گئی، تیل بردار اور دیگر بحری جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا اور خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔

رائٹرز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں 2 امریکی جہاز اور 8 تیل بردار ٹینکر شامل ہیں۔ یہ حملے امریکا کی جانب سے 5 ایرانی تیل بردار جہازوں کو تباہ کیے جانے کے بعد کیے گئے۔

امریکی فوج کے مطابق ایرانی جہازوں کو پاسداران انقلاب کی جانب سے ایک امریکی بحری جنگی جہاز پر بیلسٹک میزائل حملے کی کوشش کے جواب میں نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے 10 تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے مزید حملوں کی صورت میں ایران اپنے ردعمل میں مزید اضافہ کرے گا۔ ایران نے سمندر میں ایک نئے اور وسیع علاقے کا نقشہ جاری کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے جہاں جہاز رانی ممنوع قرار دی جاسکتی ہے، جبکہ یہ علاقہ پاکستان کے قریب چابہار تک پھیلنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

تازہ حملوں کے دوران دبئی کے قریب لنگر انداز آئل پروڈکٹس ٹینکر ہرکیولس اسٹار پر ایک ملاح ہلاک جبکہ ایک لاپتا ہوگیا۔ عراق کی بندرگاہی حکام کے مطابق نیو اینڈروس نامی ٹینکر بھی ڈرون حملے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آیا، تاہم جہاز پر سوار 22 افراد محفوظ رہے۔

برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے خلیج اور خلیج عمان میں متعدد تجارتی بحری جہازوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات کی تصدیق کی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ خورفکان میں ایک مائع قدرتی گیس کے ٹینکر کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

ایران نے ایک امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اردن کے مطابق ایران کی جانب سے 20 میزائل داغے گئے، جن میں سے 18 کو روک لیا گیا جبکہ 2 میزائل غیر آباد علاقوں میں گرے۔ امریکی حکام کے مطابق حملے میں تمام امریکی فوجی محفوظ رہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیشگوئی کی ہے کہ جنگ نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوجائے گی، تاہم امریکی حکام نے جنگ کے طویل ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.