زیارت: بلوچستان کے ضلع زیارت میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر دہشتگردوں کی اچانک فائرنگ کے نتیجے میں 8 ایف سی اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ جوابی کارروائی میں 11 دہشتگردوں کو ہلاک کرنے کی اطلاع ہے۔
حملہ زیارت کراس کے قریب اس وقت پیش آیا جب ہرنائی کے اسسٹنٹ کمشنر کے ہمراہ جانے والے قافلے کو فرنٹیئر کور کے اہلکار سکیورٹی فراہم کر رہے تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مسلح دہشتگردوں نے اچانک گھات لگا کر قافلے کو نشانہ بنایا۔
حملے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی اور دہشتگردوں کے ساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فورسز نے حملہ آوروں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور انہیں مزید کارروائی سے روک دیا۔
اطلاعات کے مطابق جھڑپ کے دوران 11 دہشتگرد مارے گئے، تاہم مقابلے میں سکیورٹی فورسز کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا اور 8 اہلکار وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے۔
واقعے کے بعد مزید نفری علاقے میں پہنچ گئی اور سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر کلیئرنس اور سرچ آپریشن شروع کردیا۔ کارروائی کا مقصد علاقے میں موجود ممکنہ دہشتگردوں اور دیگر خطرات کا خاتمہ یقینی بنانا ہے۔
بلوچستان میں 2026 کے دوران سکیورٹی صورتحال مسلسل تشویش کا باعث رہی ہے، جہاں دہشتگرد حملوں، گھات لگا کر کارروائیوں اور تخریبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اداروں کی جانب سے انسداد دہشتگردی کی کارروائیاں بھی تیز کی گئی ہیں۔
رواں سال کے آغاز میں صوبے کے مختلف علاقوں میں بیک وقت حملے کیے گئے تھے۔ 31 جنوری کو دہشتگردوں نے 10 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں سکیورٹی تنصیبات، پولیس مراکز، مالیاتی ادارے، ٹرانسپورٹ روٹس اور دیگر اہم تنصیبات شامل تھیں۔
ان حملوں میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں ہوئیں، جس کے بعد بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی شروع کی گئی۔ حکام کے مطابق اس آپریشن کے دوران 216 دہشتگرد مارے گئے جبکہ 22 سکیورٹی اہلکار بھی جان کی بازی ہار گئے۔
جولائی میں بھی بلوچستان میں دہشتگردی کی ایک اور خطرناک لہر سامنے آئی۔ فوج کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 4 سے 8 جولائی کے دوران ہونے والے حملوں اور بعد کی سکیورٹی کارروائیوں میں 42 شہری اور سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے جبکہ 54 دہشتگرد مارے گئے۔