کوئٹہ میں جنوبی پشتونخوا کے عوام اور پشتون قوم کو درپیش سیاسی، آئینی، معاشی، سماجی اور امن و امان کے مسائل پر غور و خوض کیلئے منعقد کیا جانے والا تین روزہ پشتون قومی جرگہ کامیابی سے گزشتہ روز اختتام پذیر ہوگیا۔ جرگے میں بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے سیاسی و مذہبی رہنماؤں ، قبائلی عمائدین، علمائے کرام، وکلا، تاجروں ، زمینداروں ، طلبہ، خواتین، سول سوسائٹی، سماجی کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور پشتون قوم کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
30 اگست سے یکم ستمبر تک جاری رہنے والے اس قومی جرگے کو پشتون قوم کے اجتماعی مسائل پر مشاورت اور آئندہ کے لائحہ عمل کی تشکیل کیلئے ایک اہم فورم کے طور پر دیکھا گیا۔ جرگے کے مختلف سیشنز میں شرکاء نے اپنے اپنے علاقوں کے مسائل، امن و امان کی صورتحال، سیاسی حقوق، معاشی مشکلات، قدرتی وسائل، زمینوں کے معاملات، تعلیم، صحت، روزگار، سرحدی تجارت اور جنوبی پشتونخوا کے مستقبل سمیت متعدد اہم امور پر گفتگو کی۔
جرگے میں مختلف سیاسی و فکری حلقوں کے ساتھ ساتھ مذہبی شخصیات، قبائلی مشران، وکلا، خواتین، نوجوانوں اور سول سوسائٹی کی شرکت نے اس اجتماع کو وسیع نمائندگی فراہم کی۔ مختلف اضلاع سے آنے والے شرکاء نے مقامی سطح پر عوام کو درپیش مشکلات بھی اجاگر کیں اور اس بات پر زور دیا کہ پشتون علاقوں کے مسائل کا حل باہمی مشاورت، سیاسی شعور اور آئینی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے تلاش کیا جائے۔
جرگے کے اختتامی سیشن میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتون قوم کو درپیش سیاسی، معاشی، آئینی اور امن و امان کے مسائل کا حل کسی ایک سیاسی جماعت، شخصیت یا قبیلے کے بس کی بات نہیں ، بلکہ موجودہ حالات پوری قوم سے اتحاد، اجتماعی دانش اور متفقہ قومی لائحہ عمل کا تقاضا کرتے ہیں ۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ جرگہ کسی ایک جماعت کا اجتماع نہیں بلکہ پشتون قوم کی بقا، سلامتی، عزت اور مستقبل کے حوالے سے ایک نمائندہ فورم ہے۔ ان کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں ، قبائل، علاقوں اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پشتون اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور اپنے مسائل کا پْرامن، سیاسی اور جمہوری حل چاہتے ہیں ۔
اختتامی خطاب میں محمود خان اچکزئی نے ریاستی نظام میں آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، عدلیہ کی آزادی اور ووٹ کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش بحرانوں سے نکلنے کیلئے تمام ریاستی اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے سیاسی مینڈیٹ کے احترام کو بھی ملک میں استحکام کیلئے ضروری قرار دیا۔
انہوں نے پشتون علاقوں میں بدامنی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بندوق کسی سیاسی یا قومی مسئلے کا مستقل حل نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ پشتون سرزمین کو پراکسی جنگوں اور دیگر طاقتوں کے مفادات کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان، مال اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔
محمود خان اچکزئی نے قدرتی وسائل کے معاملے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پشتون علاقوں میں موجود معدنی وسائل اور زمینوں پر مقامی آبادی کا حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔ جرگے کے مطالبات میں مقامی لوگوں کی رضامندی کے بغیر زمینوں اور قدرتی وسائل کی منتقلی یا الاٹمنٹ کی مخالفت بھی شامل رہی۔
بلوچستان کے تناظر میں انہوں نے بلوچ اور پشتون اقوام کے درمیان برابری، باہمی احترام اور شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ صوبے کے تمام باشندوں کے حقوق کا تحفظ انصاف اور برابری کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
افغانستان کے حوالے سے محمود خان اچکزئی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی احترام اور عدم مداخلت کی بنیاد پر تعلقات بہتر بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے سرحد کے دونوں جانب موجود عوام کے تاریخی، خاندانی اور معاشی روابط کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی تجارت کو سہولت دینے کی ضرورت بھی بیان کی۔
جرگے کے اختتام پر 19 نکاتی مشترکہ اعلامیہ بھی پیش کیا گیا، جس میں آزاد اور شفاف انتخابات، سویلین اتھارٹی کی بحالی، آئینی ترامیم سے متعلق تحفظات، جنوبی پشتونخوا کے سیاسی و انتظامی حقوق، قدرتی وسائل اور زمینوں کے تحفظ، قانونی سرحدی تجارت کی بحالی، امن و امان کی بہتری، سیاسی قیدیوں کی رہائی، لاپتہ افراد کی بازیابی اور تعلیم، صحت، پانی و روزگار سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے مطالبات شامل تھے۔
اعلامیے میں جنوبی پشتونخوا میں عوامی مسائل کے حل کیلئے مزید منظم سیاسی و سماجی جدوجہد اور مختلف اضلاع میں جرگہ کمیٹیاں تشکیل دینے کا فیصلہ بھی سامنے آیا۔ جرگے کے شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ تین روزہ مشاورت کو محض ایک اجتماع تک محدود رکھنے کے بجائے اس کے فیصلوں اور سفارشات کو عملی شکل دینے کیلئے آئندہ بھی رابطہ اور مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
یوں کوئٹہ میں منعقد ہونے والا پشتون قومی جرگہ ایسے وقت میں اختتام پذیر ہوا جب پشتون علاقوں میں امن، سیاسی نمائندگی، معاشی مشکلات، قدرتی وسائل، زمینوں کے تحفظ اور بنیادی سہولیات سمیت متعدد مسائل پر بحث جاری ہے۔ جرگے کے منتظمین اور شرکاء کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات اور اختتامی خطاب میں دی گئی سمت نے آئندہ کی سیاسی اور اجتماعی جدوجہد کیلئے ایک متفقہ لائحہ عمل کی ضرورت کو نمایاں کیا۔