تازہ ترین

پیٹرولیم لیوی میں کمی پر حکومت اور جماعت اسلامی میں مذاکرات پر اتفاق

0

لاہور: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور مہنگائی سے متاثرہ عوام کو ریلیف دینے کے معاملے پر وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات آگے بڑھانے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ دونوں جانب سے ماہرین پر مشتمل الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو پیٹرولیم لیوی سمیت دیگر اخراجات اور محصولات کا جائزہ لے کر قابلِ عمل سفارشات مرتب کریں گی۔

لاہور میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں مذاکرات کی تفصیلات بتائیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ موجودہ حالات میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے، جبکہ جماعت اسلامی بھی عوام کو درپیش مشکلات میں کمی چاہتی ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے جماعت اسلامی سے اپنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست کی ہے اور حکومت بھی ماہرین پر مشتمل کمیٹی بنائے گی۔ دونوں کمیٹیاں اعداد و شمار اور دستیاب وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے ایسی تجاویز پر بات کریں گی جن پر عملی طور پر پیش رفت ممکن ہو۔

احسن اقبال کے مطابق حکومتی وفد نے لاہور میں جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات کی، جس میں پیٹرولیم لیوی، عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات اور ملک کی موجودہ صورتحال سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں بدامنی نہیں چاہتی کیونکہ موجودہ حالات میں کسی بھی قسم کی انتشار کی صورت حال سے دشمن فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت دہشت گردی کے خلاف بھی جنگ لڑ رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ملک میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

احسن اقبال نے جماعت اسلامی کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی وفد کی بات کو سنجیدگی سے سنا گیا اور جماعت اسلامی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایسے مطالبات سامنے نہیں لائے جائیں گے جن سے ملکی مفاد کو نقصان پہنچے۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے بھی جماعت اسلامی کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کا بنیادی مؤقف بھی یہی ہے کہ عوام کو ریلیف ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی عالمی سطح پر جاری جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی کے ممکنہ اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے اقدامات کی کوشش کررہے ہیں۔

دوسری جانب حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومتی وفد کے ساتھ متعدد امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں کو 19 روز ہوچکے ہیں اور ملک میں ابتدا میں تین مقامات سے شروع ہونے والا احتجاج اب تقریباً 15 سے 20 مقامات تک پھیل چکا ہے، جہاں لوگوں کی شرکت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے دھرنے کسی ذاتی یا انتخابی مقصد کے لیے نہیں دیے بلکہ ان کا بنیادی مقصد عوام کو درپیش بڑے مسائل اور روزمرہ زندگی کی مشکلات کو اجاگر کرنا ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی نے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے اور عام لوگوں کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں بڑی تعداد میں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، ایسے حالات میں اگر بنیادی ضروریات اور ضروری اشیا کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھتی رہیں تو عام آدمی کے لیے حالات مزید دشوار ہوجائیں گے۔

انہوں نے پیٹرولیم لیوی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موٹر سائیکل چلانے والا ایسا شخص جس کی آمدنی قابلِ ٹیکس نہیں، وہ بھی ایک لیٹر پیٹرول پر بھاری ٹیکس ادا کررہا ہے، جس میں تقریباً 80 سے 85 روپے تک کی لیوی شامل ہے۔ ان کے بقول یہ عام آدمی پر اضافی بوجھ ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی عائد کرنے کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ اس رقم سے ریفائنریوں کی صلاحیت اور ذخیرہ کرنے کی استعداد بہتر بنائی جائے گی تاکہ مستقبل میں پاکستان کا درآمدی بوجھ کم ہوسکے۔ ان کے مطابق اب تک اس مد میں تقریباً 8 ہزار ارب روپے جمع ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گزشتہ سال پیٹرولیم لیوی کی وصولی کا جو ہدف مقرر کیا گیا تھا، اس سے بھی تقریباً 100 ارب روپے زیادہ حاصل کیے گئے۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں حکومت کو یہ دیکھنا چاہیے کہ عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے انہیں کس طرح ریلیف دیا جاسکتا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے بجلی اور گیس کے شعبوں سے متعلق معاہدوں پر بھی نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ اور ہنگامی حالات میں بعض بڑے معاہدے عارضی طور پر معطل ہوسکتے ہیں، تاہم پاکستان میں ایسے بجلی کے معاہدوں کے تحت ادائیگیاں جاری رہتی ہیں جن کے باوجود بعض صورتوں میں بجلی پیدا نہیں ہوتی۔

انہوں نے گیس کی دوبارہ گیس بنانے والے کارخانوں سے متعلق معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے اور ایسے معاہدے ہونے چاہئیں جن میں ادائیگی حقیقی استعمال کے مطابق ہو، صرف صلاحیت برقرار رکھنے کی بنیاد پر ادائیگی نہ کی جائے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی ختم کرکے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہیں کرے گی اور اعداد و شمار کی بنیاد پر قابلِ عمل تجاویز پیش کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے جماعت اسلامی سے دھرنے مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم جماعت اسلامی نے مذاکرات کے ساتھ دھرنے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف پیٹرول تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات نقل و حمل، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں پر بھی پڑتے ہیں۔ ان کے مطابق قیمتیں بڑھنے کے بعد انہیں دوبارہ کم کرنا مشکل ہوجاتا ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات بڑھتی رہتی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اپنے لیے کسی خصوصی ریلیف کا مطالبہ نہیں کررہی بلکہ عام آدمی کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے حکومت سے اقدامات کا مطالبہ کررہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ حکومتی وفد نے اپنے معاہدوں اور اخراجات سے متعلق تفصیلات بھی سامنے رکھی ہیں اور ان معاملات کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس کے بعد جماعت اسلامی سے تکنیکی ٹیم تشکیل دینے کو کہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے لیاقت بلوچ کی سربراہی میں تکنیکی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس میں نوید علی بیگ، ضیاء الدین انصاری، نصراللہ رندھاوا اور فراست شاہ شامل ہیں۔ کمیٹی دستیاب اعداد و شمار کی روشنی میں حکومت کے ساتھ مختلف معاملات پر بات کرے گی۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کو عوام سے بھاری محصولات وصول کرنے کے بجائے سبسڈی اور دیگر ذرائع سے ریلیف فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے نجی بجلی گھروں کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ بجلی کی پیداواری لاگت اور صارفین کے لیے فی یونٹ قیمت مزید کم ہوسکے۔

حافظ نعیم الرحمان نے جماعت اسلامی کے چار بنیادی مطالبات بھی بیان کیے جن میں پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ، پیٹرول کی قیمت میں کمی، نجی بجلی گھروں کے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات اور آٹا و روٹی سستی کرنا شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غریب عوام کے لیے سستی روٹی کی فراہمی ممکن ہے اور حکومت بہتر انتظامی اقدامات کے ذریعے آٹے اور روٹی کی قیمت میں کمی لاسکتی ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی سے کسان سمیت معاشرے کا ہر طبقہ متاثر ہورہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستانی عوام کو اس تناسب سے ریلیف نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق احتجاج کے دباؤ کے بعد وزیراعظم کی ہدایت پر ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے کمی کی گئی، تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک کی موجودہ صورتحال، قانون و نظم اور عالمی معاملات سے آگاہ ہے اور اس کے مطالبات غیر قانونی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیاں، مارچ اور ہڑتالیں عوامی مشکلات کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے، پیٹرول کی قیمت کم کی جائے، نجی بجلی گھروں کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کرکے بجلی سستی کی جائے اور آٹا و روٹی کی قیمتوں میں کمی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.