تازہ ترین

اپنا دفاع نہیں کروں گا، عدالت فیصلہ سنا دے‘‘ `یاسین ملک

0

سری نگر کی عدالت میں زیرِ سماعت سرلا بھٹ قتل کیس میں کشمیری رہنما یاسین ملک نے اپنے خلاف عائد قتل کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنا دفاع نہیں کریں گے اور عدالت اگر انہیں مجرم قرار دیتی ہے تو وہ سزائے موت قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یاسین ملک نے عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کرایا ہے، جس میں انہوں نے 19 اپریل 1990 کو کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس مقدمے کی کارروائی میں اپنا دفاع پیش نہیں کریں گے اور اگر عدالت انہیں قصوروار قرار دیتی ہے تو وہ عدالت کے فیصلے کو قبول کریں گے۔

سرلا بھٹ کشمیری پنڈت نرس تھیں جنہیں 1990 کی دہائی کے آغاز میں قتل کردیا گیا تھا۔ یاسین ملک کے خلاف اس واقعے سمیت ماضی کے متعدد مقدمات زیرِ سماعت رہے ہیں، جبکہ حالیہ برسوں میں سرلا بھٹ قتل کیس دوبارہ نمایاں ہوگیا ہے۔

یاسین ملک نے اپنے حلف نامے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث نہیں تھے۔ ان کے مطابق 8 اپریل 1990 کو بھارتی فورسز کے ایک چھاپے کے دوران وہ شدید زخمی ہوگئے تھے، اس لیے 19 اپریل کو پیش آنے والے واقعے میں ان کے ملوث ہونے کا الزام درست نہیں۔

رپورٹ کے مطابق یاسین ملک نے عدالت سے اپنے دفاع کے بجائے فیصلہ عدالت پر چھوڑنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر عدالت انہیں مجرم قرار دیتی ہے تو وہ سزائے موت کے فیصلے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یاسین ملک کے خلاف ماضی میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمے میں بھی کارروائی ہوئی تھی۔ مئی 2022 میں بھارتی تحقیقاتی ادارے نے ان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا، تاہم عدالت نے 25 مئی 2022 کو یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ انہیں دو مرتبہ عمر قید سمیت دیگر سزائیں اور جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔

بعد ازاں بھارتی تحقیقاتی ادارے نے دہلی ہائی کورٹ میں عمر قید کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے دوبارہ سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ یاسین ملک نے اس موقع پر بھی رحم کی اپیل کرنے کے بجائے عدالت کو سزا کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دیا تھا۔

25 صفحات پر مشتمل حالیہ حلف نامے میں یاسین ملک نے اپنی ذاتی زندگی اور خاندان کا بھی ذکر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کے حوالے سے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی اہلیہ اپنی باقی زندگی ان کے غیر یقینی مستقبل، طویل قید یا بیوگی کے بوجھ کے ساتھ گزاریں، اسی لیے انہوں نے انہیں نکاح سے آزاد کرنے کی بات کی ہے۔

یاسین ملک نے اپنی آٹھ سالہ بیٹی کے حوالے سے بھی جذباتی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ روزانہ اپنی دادی کو سری نگر فون کرے تاکہ عمر کے اس حصے میں انہیں تنہائی کا زیادہ احساس نہ ہو۔

سرلا بھٹ قتل کیس میں یاسین ملک کے خلاف کارروائی اور ان کے حالیہ حلف نامے کے بعد معاملہ ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، تاہم ان کے خلاف کسی بھی حتمی سزا یا کارروائی کا فیصلہ عدالت کی جانب سے مقدمے کی سماعت اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.