اسلام آباد: غیرقانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کے دوران گرفتار کیے گئے غیرملکی شہریوں میں سے 61 افراد کو پاکستان سے ملک بدر کردیا گیا، جن میں 36 ویتنامی، 24 چینی اور ایک ملائیشین شہری شامل ہیں۔
حکام کے مطابق غیرقانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں کے بعد ایف آئی اے کی حراست میں مجموعی طور پر 258 غیرملکی شہری موجود ہیں، جبکہ مزید دو چینی باشندوں کو بھی آج رات ملک بدر کیے جانے کا امکان ہے۔ ان کی روانگی کے بعد ملک بدر کیے جانے والے غیرملکیوں کی مجموعی تعداد 63 ہوجائے گی۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے غیرملکی شہری کال سینٹرز کی آڑ میں غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کے خلاف کارروائی غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے کی گئی۔
ملک بدر کیے جانے والے تمام غیرملکی شہریوں کے نام بلیک لسٹ میں بھی شامل کردیئے گئے ہیں، جس کے باعث وہ مستقبل میں پاکستان میں دوبارہ داخل نہیں ہوسکیں گے۔
وزارت داخلہ نے مذکورہ افراد کے ویزے منسوخ کرکے انہیں ملک سے روانگی کے لیے اجازت نامے جاری کیے۔ اس کے بعد انہیں پاکستان سے باضابطہ طور پر ملک بدر کردیا گیا۔
حکام کے مطابق غیرقانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری ہے اور حراست میں موجود دیگر غیرملکی شہریوں کے معاملات کی بھی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد مزید افراد کو بھی ملک بدر کیے جانے کا امکان ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے غیرقانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں کا مقصد ایسے مراکز کا خاتمہ ہے جو قانونی کاروباری سرگرمیوں کے بجائے مبینہ طور پر غیر اخلاقی اور غیرقانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہورہے تھے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث غیرملکی شہریوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی اور ایسے افراد کو ملک میں دوبارہ داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔