اسلام آباد کے پمز اسپتال کے نرسری وارڈ میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک نومولود بچے کو بچانے والی نرس رضیہ نورین کی بہادری کو حکومت نے سراہتے ہوئے بڑا اعزاز دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نرس رضیہ نورین کے لیے ستارۂ خدمت اور ایک کروڑ روپے نقد انعام کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم نے نرس رضیہ نورین کے فرض شناسی، بہادری اور غیر معمولی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ نرس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر انتہائی خطرناک صورتحال میں بچے کو محفوظ نکالا، جس پر انہیں اور پوری قوم کو رضیہ نورین پر فخر ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایسے فرض شناس اور بہادر افراد کی جتنی بھی حوصلہ افزائی کی جائے، کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل ترین حالات میں اپنی ذمہ داری نبھانے والے اہلکار معاشرے کے لیے قابلِ احترام مثال قائم کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ 26 اگست کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نرسری وارڈ میں خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس افسوسناک واقعے کے دوران نرس رضیہ نورین نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک بچے کو بروقت باہر نکال لیا، جس کے باعث اس کی زندگی بچ گئی۔
واقعے کے فوراً بعد وزیراعظم شہباز شریف نے آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دیا تھا اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی تھی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی بھی قائم کی گئی، جس نے آتشزدگی کی وجوہات، اسپتال کے حفاظتی انتظامات، ریسکیو کارروائی اور ممکنہ غفلت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
انکوائری کے بعد کارروائی کا دائرہ بھی وسیع کردیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت پمز کے 8 افسران کو معطل کرنے کی منظوری دیتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم دیا ہے۔
پمز آتشزدگی کے اس سانحے نے اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت اور نومولود بچوں کی نگہداشت کے نظام پر بھی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ دوسری جانب نرس رضیہ نورین کی جانب سے اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچے کو بچانے کے اقدام کو قومی سطح پر بہادری اور فرض شناسی کی قابلِ قدر مثال قرار دیا جارہا ہے۔