Anthropic کو سزا دینا غیر قانونی تھا، امریکی عدالت کا بڑا فیصلہ
واشنگٹن- امریکی مصنوعی ذہانت کی کمپنی Anthropic نے پینٹاگون کے ساتھ قانونی جنگ میں بڑی کامیابی حاصل کرلی، وفاقی عدالت نے امریکی حکومت کی جانب سے کمپنی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر سرکاری کاروبار سے دور رکھنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف عائد پابندیوں کو ختم کردیا۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج ریٹا لِن نے 59 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا کہ حکومت کی جانب سے Anthropic کو “supply-chain risk” قرار دینا غیر قانونی اور بے بنیاد تھا۔ عدالت کے مطابق حکومت نے کمپنی کے خلاف اس کے محفوظ آئینی اظہارِ رائے کے ردعمل میں غیر قانونی کارروائی کی۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب Anthropic نے اپنے Claude AI ماڈل کے بعض فوجی استعمال پر تحفظات ظاہر کیے۔ کمپنی نے کہا تھا کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی کو امریکی شہریوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی یا مکمل خودکار مہلک ہتھیاروں میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
اس موقف کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے وفاقی اداروں کو Anthropic کی ٹیکنالوجی کا استعمال روکنے کی ہدایت کی، جبکہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کمپنی کو قومی سلامتی سے متعلق supply-chain risk قرار دے دیا تھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں کمپنی کے لیے امریکی حکومت اور فوج سے متعلق کاروبار متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔
Anthropic نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ حکومت نے کمپنی کو اس کے AI سیفٹی سے متعلق مؤقف اور عوامی اظہارِ رائے کی وجہ سے نشانہ بنایا، جبکہ اسے supply-chain risk قرار دینے سے قبل مناسب قانونی عمل کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔
جج ریٹا لِن نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ قومی سلامتی کا حوالہ حکومت کو ناقدین کے خلاف انتقامی کارروائی کا اختیار نہیں دیتا۔ عدالت نے Anthropic کے خلاف supply-chain risk designation ختم کردی اور متعلقہ حکومتی اقدامات پر مستقل پابندی عائد کردی۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کو Anthropic کی خدمات خریدنے پر مجبور نہیں کیا گیا۔ یعنی حکومت قانونی تقاضوں کے مطابق کسی دوسری AI کمپنی کا انتخاب کرسکتی ہے، تاہم Anthropic کو اس کے مؤقف یا محفوظ اظہارِ رائے کی بنیاد پر سزا نہیں دی جاسکتی۔
Anthropic نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی قومی سلامتی کے لیے AI کے ذمہ دارانہ استعمال پر حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب امریکی حکومت کے پاس فیصلے کے خلاف اپیل کا راستہ موجود ہے، جبکہ Anthropic کی جانب سے دائر ایک الگ مقدمہ واشنگٹن ڈی سی کی وفاقی عدالت میں تاحال زیرِ سماعت ہے۔
یہ فیصلہ AI کمپنیوں اور امریکی حکومت کے درمیان اس بڑے سوال پر اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی فوجی اور قومی سلامتی سے متعلق ایپلی کیشنز پر کمپنیوں کی مقرر کردہ حدود اور حکومتی اختیارات کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔