اسلام آباد- حکومت نے عوام اور اپوزیشن کی شدید مخالفت کے بعد نجی و سرکاری اراضی پر ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب سے متعلق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026 سینیٹ سے واپس لے لیا ہے۔
وفاقی حکومت نے آئینی مدت 90 دن مکمل ہونے اور ممکنہ تاخیر سے بچنے کے لیے بل واپس لینے کا فیصلہ کیا، تاکہ تمام متعلقہ فریقین کی تجاویز اور تحفظات کو سامنے رکھتے ہوئے نئے مسودے کی تیاری کی جاسکے۔
سینیٹ کے اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وزیر اطلاعات و ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ کی جانب سے بل واپس لینے کی تحریک پیش کی۔
ایوان نے حکومت کی جانب سے پیش کی گئی تحریک کو منظور کرلیا، جس کے بعد متنازع ٹیلی کام ترمیمی بل 2026 سینیٹ سے واپس لے لیا گیا۔
حکومت کی جانب سے بل واپس لینے کے بعد امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ متعلقہ فریقین کی تجاویز اور تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس قانون میں دوبارہ ترامیم کی جائیں گی اور نیا مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔