اسلام آباد: پمز اسپتال میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے اور 14 نومولود بچوں کی اموات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کردی گئی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹری شاہد خان کو انکوائری کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ میجر جنرل (ر) ڈاکٹر خورشید اُترا، ڈاکٹر بیرسٹر نبیل احمد اعوان اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔
انکوائری کمیٹی پمز میں آتشزدگی کے فوری سبب کا تعین کرنے کے ساتھ واقعے کی مکمل ٹائم لائن بھی مرتب کرے گی۔ کمیٹی یہ جائزہ لے گی کہ آگ لگنے کے بعد اسپتال انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔
کمیٹی اسپتال کے عملے، فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کے ہنگامی ردعمل اور امدادی کارروائیوں کا بھی تفصیلی جائزہ لے گی۔
انکوائری کمیٹی بالخصوص نومولود بچوں کی منتقلی اور ہائی رسک نوزائیدہ بچوں کے محفوظ انخلا کے لیے موجود ہنگامی ایس او پیز پر عملدرآمد کا جائزہ لے گی۔
اس کے علاوہ پمز اسپتال میں موجود فائر سیفٹی انفراسٹرکچر، حفاظتی انتظامات اور متعلقہ ضوابط پر عملدرآمد کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی واقعے میں کسی بھی فرد یا ادارے کی ذمہ داری اور ممکنہ غفلت کا تعین کرے گی۔ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی روشنی میں ذمہ داروں کی نشاندہی کی جائے گی۔
کمیٹی مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے پمز کے انتظامی نظام، فائر سیفٹی اور ہنگامی ردعمل کے طریقہ کار میں ضروری اصلاحات سے متعلق سفارشات بھی پیش کرے گی۔
انکوائری کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر فوری نوعیت کی سفارشات پر مشتمل عبوری رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کرے۔
جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد 5 روز کے اندر جامع رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جائے گی، جس میں ذمہ داری کے تعین کے ساتھ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قابلِ عمل سفارشات شامل ہوں گی۔
وزارتِ قومی صحت کو کمیٹی کو فوری طور پر نوٹیفائی کرنے اور تحقیقات کے دوران تمام ضروری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے۔