مظفرآباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کی جانب سے ٹیکنوکریٹ نشست پر منتخب رکن آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی بیرسٹر سید افتخار گیلانی کو وزیراعظم آزاد کشمیر کے لیے امیدوار نامزد کیے جانے کے بعد ان کی سیاسی اور پیشہ ورانہ زندگی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
بیرسٹر سید افتخار گیلانی کا تعلق مظفرآباد کے ایک معروف اور سیاسی طور پر سرگرم خاندان سے ہے۔ ان کے خاندان کو آزاد کشمیر میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ابتدائی اور اہم سیاسی خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد میں حاصل کی، جس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ کا رخ کیا۔
انہوں نے برطانیہ کے ایک معتبر تعلیمی ادارے سے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان واپس آگئے۔ وطن واپسی کے بعد انہوں نے تقریباً 10 سال تک اسلام آباد میں وکالت کے شعبے سے وابستہ رہتے ہوئے قانونی امور میں تجربہ حاصل کیا۔
بیرسٹر افتخار گیلانی نے باقاعدہ عملی سیاست میں قدم 2011 کے آزاد کشمیر کے عام انتخابات سے رکھا۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کرکے پہلی مرتبہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
اس وقت آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم تھی جبکہ انتخابی میدان میں انہیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس کے اتحاد کی جانب سے مقابلے کا سامنا تھا۔ تاہم انہوں نے کامیابی حاصل کرکے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بنائی۔
2016 کے عام انتخابات میں بیرسٹر سید افتخار گیلانی نے ایک مرتبہ پھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کرکے دوسری مرتبہ رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے۔
انہوں نے اپنے مدِمقابل امیدوار خواجہ فاروق احمد کو واضح برتری سے شکست دی، جس کے بعد ان کا شمار مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے نمایاں سیاسی رہنماؤں میں ہونے لگا۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کو آزاد کشمیر حکومت میں وزیر تعلیم کی ذمہ داری بھی سونپی گئی، جہاں انہوں نے محکمہ تعلیم میں مختلف اصلاحات متعارف کرانے پر توجہ دی۔
ان کے دور میں محکمہ تعلیم میں بھرتیوں کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ سروس (NTS) کے ذریعے نظام متعارف کرایا گیا، جس کا مقصد بھرتیوں کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو فروغ دینا تھا۔
اس کے علاوہ تعلیمی معیار میں بہتری، اساتذہ کی اہلیت بڑھانے اور محکمہ تعلیم کے انتظامی نظام میں اصلاحات کے لیے بھی مختلف اقدامات کیے گئے۔
بیرسٹر سید افتخار گیلانی کی سیاسی، قانونی اور انتظامی تجربے کی بنیاد پر اب مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے انہیں وزیراعظم آزاد کشمیر کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا ہے۔
وہ قانون کے شعبے میں پیشہ ورانہ تجربہ رکھنے کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رکن اور وزیر کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ ان کا سیاسی سفر مختلف ادوار میں انتخابی کامیابیوں اور حکومتی ذمہ داریوں پر مشتمل رہا ہے۔
اب ان کی نامزدگی کے بعد آزاد کشمیر میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں مزید اہمیت اختیار کر گئی ہیں اور وزیراعظم کے انتخاب کے بعد آئندہ حکومتی ترجیحات بھی واضح ہونے کی توقع ہے۔