امریکا ایران جنگ کے اثرات کم ہونے لگے، کئی ایئرلائنز نے پروازیں بحال کرنا شروع کردیں
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی شدت میں کمی آنے کے بعد خطے کا فضائی نظام بھی بتدریج معمول کی جانب بڑھنے لگا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث متاثر ہونے والی فضائی سروسز کی بحالی کا عمل شروع ہوگیا ہے اور بعض ایئرلائنز نے خطے کے مختلف مقامات کے لیے پروازیں دوبارہ چلانے کے اقدامات کیے ہیں، تاہم کئی اہم روٹس پر فضائی آپریشن اب بھی محدود ہے۔
خطے میں حالیہ کشیدگی کے دوران مختلف ممالک کی فضائی حدود متاثر ہوئی تھیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں پروازیں منسوخ، معطل یا متبادل راستوں پر منتقل کرنا پڑی تھیں۔ صورتحال میں بہتری کے باوجود ایئرلائنز حفاظتی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہیں اور مکمل فضائی آپریشن بحال کرنے کے معاملے میں احتیاط سے کام لے رہی ہیں۔
خلیجی خطے کے بعض مقامات کے لیے فضائی رابطے بڑی حد تک بحال ہونا شروع ہوگئے ہیں، تاہم دبئی سمیت بعض اہم فضائی مراکز پر متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازوں کی معطلی کی مدت میں مزید توسیع کردی ہے۔
لفتھینزا گروپ سے وابستہ مختلف ایئرلائنز نے دبئی اور بیروت سمیت مشرق وسطیٰ کے کئی مقامات کے لیے پروازیں اکتوبر کے آخر تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایئرلائنز کی جانب سے یہ فیصلہ خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور مسافروں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
برٹش ایئرویز نے بھی دبئی، تل ابیب، بحرین اور عمان کے لیے پروازوں کی معطلی 25 اکتوبر تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے باعث ان روٹس پر سفر کرنے والے مسافروں کو مزید مشکلات اور متبادل سفری انتظامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسی طرح سنگاپور ایئرلائنز، کیتھے پیسیفک اور ویز ایئر نے بھی مشرق وسطیٰ کے بعض روٹس پر پروازیں اکتوبر تک معطل رکھنے کے فیصلے کیے ہیں۔ ان ایئرلائنز کی جانب سے پروازوں کی بحالی کے حوالے سے حتمی فیصلے خطے کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیے جائیں گے۔
ایئر کینیڈا نے بھی تل ابیب اور دبئی کے لیے پروازوں کی معطلی کی مدت جنوری 2027 تک بڑھا دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض بین الاقوامی ایئرلائنز خطے میں مکمل فضائی آپریشن کی بحالی کے حوالے سے ابھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب کچھ ایئرلائنز نے معمول کے فضائی آپریشن کی جانب واپسی کی تیاری شروع کردی ہے۔ ایئر فرانس نے مشرق وسطیٰ کے مختلف روٹس پر پروازوں کی بحالی کی سمت پیش رفت شروع کردی ہے، تاہم مکمل آپریشن کی بحالی کا انحصار سکیورٹی صورتحال اور متعلقہ فضائی حدود کی دستیابی پر ہوگا۔
ماہرین کے مطابق فضائی رابطوں کی بحالی خطے میں کاروباری سرگرمیوں، سیاحت، تجارت اور مسافروں کی آمدورفت کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ تاہم ایئرلائنز کے لیے مسافروں اور عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اسی لیے معمول کے شیڈول کی مکمل بحالی میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے سفر سے قبل متعلقہ ایئرلائن سے اپنی پرواز کے تازہ ترین شیڈول، روانگی کے وقت اور روٹ کی تصدیق ضرور کریں، کیونکہ موجودہ صورتحال میں پروازوں کے اوقات یا آپریشن میں اچانک تبدیلی ممکن ہے۔