تازہ ترین

پابندیوں سے ایران شکست کے قریب پہنچ گیا، ٹرمپ

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف عائد کی جانے والی معاشی پابندیاں اور بڑھتا ہوا مالی دباؤ بالآخر جنگ کا رخ امریکا کے حق میں موڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی مالی طاقت غیر معمولی ہے اور اسی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے ایران کو مزید کمزور کیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی پابندیوں کے باعث ایران کی معاشی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے اور ملک شدید مالی مشکلات سے دوچار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھنے کے نتیجے میں تہران شکست کے قریب پہنچ رہا ہے۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے ایران کے خلاف پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئی پابندیوں کا مقصد ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی، مالیاتی نظام اور بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں پر مزید دباؤ ڈالنا ہے۔

امریکی حکام نے ان ممالک اور مالیاتی اداروں کو بھی خبردار کیا ہے جو ایران کے ساتھ ایسے تجارتی روابط برقرار رکھتے ہیں جنہیں واشنگٹن پابندیوں کی خلاف ورزی تصور کرتا ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے مختلف مالی اور تجارتی ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب چین ایران پر امریکی دباؤ کے لیے ایک اہم چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، کیونکہ چین ایرانی تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ہے۔ امریکی پابندیوں کے باوجود ایران نے واشنگٹن کے سامنے واضح پسپائی اختیار نہیں کی اور اپنی شرائط پر قائم رہنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔

پابندیوں کے باعث ایرانی معیشت کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ایرانی کرنسی بھی شدید دباؤ میں ہے، تاہم تہران کی جانب سے امریکا کے مطالبات تسلیم کرنے کے واضح آثار سامنے نہیں آئے۔

موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز بھی تنازع کا اہم مرکز بن چکی ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی بحری آمدورفت کے لیے عارضی انتظام پر بات چیت جاری ہے، جس کا مقصد خطے میں تجارتی سرگرمیوں اور عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر ہونے سے بچانا ہے۔

اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محفوظ انداز میں بحال کرنے کی کوشش کامیاب ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کم ہوسکتے ہیں اور قیمتوں میں مزید کمی کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔ تاہم خطے میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی یا مذاکرات میں ناکامی کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دوبارہ تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.