تازہ ترین

ایران عمان مذاکرات کے اثرات، عالمی تیل مارکیٹ میں قیمتیں نیچے آنے لگیں

0

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد برینٹ کروڈ 86 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب آگیا۔ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے ذریعے عارضی بحری راستہ قائم کرنے کے امکانات پر بات چیت نے عالمی توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات کو کسی حد تک کم کیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا۔رپورٹس کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے عارضی راستہ قائم کرنے کے حوالے سے فریم ورک پر مذاکرات جاری ہیں۔ اس پیش رفت کو عالمی مارکیٹ میں اس امید کے طور پر دیکھا جارہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل کے لیے کوئی قابلِ عمل راستہ نکالا جاسکتا ہے۔عالمی منڈی میں کاروبار کے اختتام پر برینٹ کروڈ کی قیمت 86.28 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کے سودے 80.29 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ یہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں، اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور سپلائی کو متاثر کرسکتی ہے۔ایران اور عمان کے درمیان عارضی بحری راستے کے امکانات پر بات چیت کی خبر سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں کے خدشات میں کچھ کمی آئی ہے۔ مارکیٹ میں یہ توقع پیدا ہوئی ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے محدود یا مرحلہ وار بحری آمدورفت بحال ہونے کی صورت میں عالمی تیل سپلائی پر دباؤ کم ہوسکتا ہے۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ اور باقاعدہ بحری آمدورفت کی مکمل بحالی ایک آسان مرحلہ نہیں ہوگا۔ خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، سیاسی کشیدگی اور مختلف فریقوں کے درمیان اختلافات کسی بھی عارضی انتظام پر عمل درآمد میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔مارکیٹ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں عالمی تیل کی قیمتوں کا رخ بڑی حد تک مشرق وسطیٰ کی صورتحال، آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی اور ایران سمیت دیگر فریقوں کے درمیان جاری سفارتی رابطوں سے طے ہوگا۔اگر آبنائے ہرمز میں بحری راستہ مؤثر انداز میں بحال ہوجاتا ہے اور عالمی تیل سپلائی میں رکاوٹ کا خطرہ مزید کم ہوتا ہے تو خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آنے کا امکان موجود ہے۔ تاہم صورتحال میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہونے کی صورت میں قیمتیں ایک مرتبہ پھر تیزی سے اوپر جاسکتی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.