نیتن یاہو کے طیارے کو فرانسیسی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت، ایمنسٹی کا فرانس پر دوہرے معیار کا الزام
پیرس- اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے طیارے کو فرانس کی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دیے جانے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فرانس کے مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے دوہرے معیار کا الزام عائد کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بین الاقوامی قانون اور انصاف کے احترام کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ اسی دوران نیتن یاہو کے طیارے کو فرانسیسی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔
تنظیم نے اپنے مؤقف میں نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کے جاری کردہ گرفتاری کے وارنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے فرانس کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ سے متعلق سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے اسرائیلی وزیراعظم کے طیارے کو فرانسیسی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے سے فرانس کے مؤقف میں تضاد نمایاں ہوتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سوال اٹھایا کہ اگر فرانس ایسے اسرائیلی وزیراعظم کے طیارے کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دیتا ہے جس کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کا گرفتاری وارنٹ موجود ہے تو کیا یہ اسے ممکنہ احتساب سے بچنے میں مدد دینے کے مترادف نہیں۔
تنظیم نے مزید کہا کہ غزہ کی صورتحال کے تناظر میں فرانس کی جانب سے ایسے اقدام سے اس کے بین الاقوامی قانون اور انصاف سے متعلق مؤقف پر مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
دوسری جانب فرانسیسی حکومت نے نیتن یاہو کے طیارے کو فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ روم اسٹیٹیوٹ میں ایسی کوئی ذمہ داری موجود نہیں جو کسی ریاستی طیارے کو محض اس بنیاد پر روکنے کا تقاضا کرے کہ اس میں گرفتاری وارنٹ کا سامنا کرنے والا شخص سوار ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی قانون اور انصاف کے اصولوں کی حمایت کے دعووں کے ساتھ عملی اقدامات میں بھی یکساں اصولوں کا اطلاق ہونا چاہیے۔