امریکا ایران جنگ، پاکستان کا آزادانہ امن مشن، مؤثر ثالث کے طور پر کردار نمایاں
اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور بڑھتی علاقائی کشیدگی کے دوران پاکستان نے کسی فریق کے نمائندے کے بجائے ایک آزاد اور قابلِ اعتماد سفارتی کردار کے طور پر امن کی کوششیں تیز کردی ہیں، جبکہ دونوں حریف ممالک سمیت خطے کے اہم فریقین سے بیک وقت رابطے کی اس کی صلاحیت اسلام آباد کو ایک منفرد سفارتی پل بنا رہی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنی سفارتی رسائی کو استعمال کرتے ہوئے
حریف فریقین کو مذاکرات کے قریب لانے اور جنگ کے پرامن، پائیدار اور جامع حل کی
راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان کو اس معاملے میں ایک قدرتی ثالث قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ
اسے ایران، سعودی عرب، امریکا اور خلیجی ریاستوں تک رسائی حاصل ہے۔ اسلام آباد بیک
وقت تمام اہم فریقین کے ساتھ عملی اور فعال تعلقات برقرار رکھتا ہے، جس کے باعث
اسے مختلف اور باہم متحارب کیمپوں کے درمیان رابطے کا ایک غیر معمولی موقع حاصل
ہے۔
اس کے برعکس خلیجی ممالک پہلے ہی براہ راست تنازع کے اثرات کی زد میں
ہیں۔ مختلف ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے باعث وہ خود بھی تنازع
کا حصہ بن چکے ہیں، جس سے ان کے لیے غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرنا محدود
ہوجاتا ہے۔
فرانس، جرمنی اور برطانیہ سمیت یورپی ممالک کو ایران کے ساتھ ثالثی
کے حوالے سے الگ نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔ تینوں ممالک ایران کے جوہری معاہدے
جے سی پی او اے کے تحت ای تھری کے طور پر براہ راست فریق تھے۔
2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے
جے سی پی او اے سے علیحدگی کے بعد یورپی ممالک بھی ایران کو مطلوبہ معاشی ریلیف
فراہم نہیں کرسکے، جس کے نتیجے میں ایران اور یورپی ممالک کے درمیان اعتماد اور
ساکھ کا بحران پیدا ہوا۔
اب تک اسلام آباد مفاہمتی فریم ورک کا کوئی قابلِ عمل متبادل سامنے
نہیں آیا۔ جنگ شروع ہوئے کئی ماہ گزرنے کے باوجود کسی دوسرے ملک کی ثالثی کی کوشش
مستقل اور پائیدار تصفیے میں تبدیل نہیں ہوسکی۔
تنازع کے طویل ہونے اور کسی مؤثر سفارتی فریم ورک کے سامنے نہ آنے سے
پاکستان کا کردار مزید اہم ہوجاتا ہے، کیونکہ اسلام آباد تمام اہم فریقین کو ایک
دوسرے کے ساتھ جوڑنے اور مذاکرات کا قابلِ عمل راستہ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا
ہے۔
پاکستان ایران کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے میں ہے، جبکہ سعودی عرب،
خلیجی ممالک اور امریکا کے ساتھ بھی اس کے مضبوط اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات
موجود ہیں۔ تمام اطراف کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنا پاکستان کو مختلف
فریقین کے درمیان سفارتی رابطے کے لیے ضروری گنجائش فراہم کرتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے جنگ کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوشش
محض ثالثی تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے اس کے اپنے قومی مفادات بھی کارفرما
ہیں، جن میں سرحدی سلامتی، توانائی کی ضروریات، خلیجی ممالک سے ترسیلات زر، سمندری
رابطے، دہشتگردی کے خلاف علاقائی تعاون اور مسئلہ کشمیر پر عرب و اسلامی ممالک کی
حمایت سمیت متعدد اہم عوامل شامل ہیں۔
پاکستان ایران کے ساتھ ایک طویل اور دشوار گزار سرحد رکھتا ہے، جس کے
باعث سرحد کے دوسری جانب سیکیورٹی اور بارڈر کنٹرول کا متاثر ہونا براہ راست
پاکستان کے مفادات کو متاثر کرسکتا ہے۔ اسلام آباد نہیں چاہتا کہ تنازع کے نتیجے
میں سرحدی نگرانی اور سیکیورٹی کا نظام کمزور ہو۔
اسی طرح پاکستان خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کے اقتصادی
اور اسٹریٹجک استحکام میں بھی براہ راست دلچسپی رکھتا ہے۔ خلیجی ممالک میں مقیم
پاکستانی تارکین وطن اور وہاں سے آنے والی ترسیلات زر، توانائی کی درآمدات، سرمایہ
کاری، تجارت اور دفاعی شراکت داری پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
پاکستانی مفادات کے حوالے سے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں کسی
طویل بندش یا شدید خلل کو بھی اہم خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان اہم سمندری راستوں
میں طویل تعطل سے توانائی کی فراہمی، شپنگ روٹس، مال برداری کے اخراجات اور
پاکستان کے وسیع تر معاشی مفادات متاثر ہوسکتے ہیں۔
پاکستان کی ثالثی کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ علاقائی اور عالمی سلامتی
سے براہ راست جڑے معاملات پر وسیع تر تعاون کی بنیاد رکھی جائے۔ ایران، سعودی عرب،
امریکا اور دیگر اہم فریقین کے درمیان مسلسل مذاکرات اور رابطے کے ذریعے اسلام
آباد ایسے ماحول کی تشکیل میں مدد دینا چاہتا ہے جس سے علاقائی تعاون کو فروغ ملے
اور پاکستان کے طویل المدتی سکیورٹی و معاشی مفادات کا تحفظ ہوسکے۔
پاکستان اپنی آبادی کے مذہبی و سماجی تنوع کے باعث خطے میں فرقہ
وارانہ تنازعات کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی براہ راست دلچسپی رکھتا ہے۔ سعودی عرب
اور دیگر سنی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ متوازن روابط
پاکستان کو دونوں اطراف کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کا موقع دیتے ہیں۔
اسلام آباد کا متوازن سفارتی کردار خطے میں فرقہ وارانہ بیانیوں کے
پاکستان تک پھیلاؤ کو روکنے، معاشرتی ہم آہنگی برقرار رکھنے اور داخلی استحکام کے
تحفظ میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
پاکستان کی کوشش محض لڑائی کو عارضی طور پر روکنے تک محدود نہیں بلکہ
اسلام آباد پرامن، پائیدار اور جامع حل چاہتا ہے۔ پاکستان کے مطابق پائیدار
علاقائی استحکام صرف مذاکرات، باہمی سمجھوتوں اور عملی اقدامات کے ذریعے ہی حاصل
کیا جاسکتا ہے۔
مختلف اور متحارب فریقین کے درمیان تعلقات
کشیدہ ہونے کے باوجود پاکستان کا ان تمام ممالک کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنا اس کی
ایک اہم اسٹریٹجک طاقت ہے۔ اسلام آباد ایسے فریقین سے بھی بات چیت کرسکتا ہے جن کے
درمیان براہ راست رابطے یا تعلقات محدود یا کشیدہ ہوں، یوں پاکستان مسلسل سفارتی
رابطے کے لیے ایک اہم چینل فراہم کرتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ امن، استحکام اور
اپنے قومی مفاد کو ترجیح دے رہا ہے۔ بحران سے نمٹنے کی صلاحیت، سفارتی ساکھ اور
متحارب فریقین کے ساتھ بیک وقت تعلقات برقرار رکھنے کی منفرد صلاحیت پاکستان کو
خطے میں ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد سفارتی پل بناتی ہے۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اس سفارتی کردار کی عملی مثال کے طور پر پیش کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے پاکستان نے سفارتی رابطوں کو مذاکرات، فریقین کے درمیان عزم اور ایک پرامن و پائیدار تصفیے کے لیے ایک ٹھوس فریم ورک میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔