خواتین کے ایکشن کرداروں کے لیے مخصوص جسمانی ساخت معیار نہیں ہونی چاہیے: زارا نور عباس
کراچی: اداکارہ زارا نور عباس نے آنے والی انتھالوجی فلم ’شہروز‘ کے ایکشن سیگمنٹ ’گیئر اپ‘ میں کام کرنے کے تجربے، جسمانی ساخت سے متعلق اپنے خدشات اور ایکشن کرداروں میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
زارا نور عباس نے بتایا کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران ان کا وزن موجودہ وزن سے تقریباً 12 کلو زیادہ تھا، جس کے باعث وہ اسکرین پر اپنے لباس اور جسمانی ساخت کے حوالے سے خاصی محتاط تھیں۔
اداکارہ کے مطابق انہوں نے اس حوالے سے ہدایت کار ثاقب خان سے بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا، تاہم ہدایت کار نے انہیں یقین دلایا کہ کردار کے لیے ان کی جسمانی ساخت بالکل موزوں ہے۔
زارا نور عباس نے بتایا کہ ثاقب خان نے انہیں سمجھایا کہ وہ اپنی جسمانی ساخت کو منفی انداز میں دیکھ رہی ہیں، جبکہ ان کے خیال میں وہ اس کردار کے لیے بالکل فٹ ہیں اور وہ اسی جسمانی ساخت کی اداکارہ کو کردار میں دیکھنا چاہتے تھے۔
اداکارہ نے کہا کہ ہر خاتون کی جسمانی ساخت مختلف ہوتی ہے اور خواتین مختلف جسمانی خصوصیات کے ساتھ مختلف کہانیاں پیش کرتی ہیں، اس لیے ایکشن فلموں میں مضبوط خواتین کرداروں کے لیے کسی ایک مخصوص جسمانی ساخت کو معیار نہیں بنانا چاہیے۔
فلم ’شہروز‘ تین مختلف خواتین کی کہانیوں پر مبنی انتھالوجی ہے۔ زارا نور عباس اس کے سیگمنٹ ’گیئر اپ‘ میں پولیس افسر کا کردار ادا کر رہی ہیں، جس میں تیز رفتار گاڑیوں کا تعاقب، بم ناکارہ بنانے اور موٹر سائیکل پر پولیس اسٹیشن پہنچنے سمیت مختلف ایکشن مناظر شامل ہیں۔
فلم کے دیگر حصوں ’آرٹسٹ‘ اور ’پنچ‘ میں کنزا ہاشمی اور اشنہ شاہ اداکاری کر رہی ہیں۔
زارا نور عباس کا کہنا تھا کہ ڈراموں میں خواتین کی جسمانی طاقت، جذباتی مضبوطی، ثابت قدمی اور برداشت کو نمایاں کرنے کے مواقع کم ملتے ہیں، اسی لیے وہ ایسا کردار ادا کرنا چاہتی تھیں جس میں انہیں ایک مضبوط اور بااثر خاتون کے طور پر پیش کیا جائے۔
اداکارہ نے مستقبل میں جاسوسی، پولیس اور ایکشن سے متعلق مزید کردار ادا کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ ایک نئے کردار کے لیے سخت تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق وہ صبح 7 بجے اٹھ کر دوپہر 12 بجے تک تربیت کرتی ہیں، جس کے بعد ڈرامے کے سیٹ پر کام کرتی ہیں، جبکہ اس دوران وہ ایم ایم اے اور اسٹریٹ فائٹنگ بھی سیکھ رہی ہیں۔
زارا نور عباس نے کہا کہ انہیں اپنی شخصیت کے اس نئے پہلو کو دریافت کرنا اچھا لگ رہا ہے۔