تازہ ترین

تیل کی قلت ہوئی تو شاید 1000 روپے فی لیٹر بھی نہ ملے ،وزیر پیٹرولیم

0

لاہور: خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی صورتحال میں غیر یقینی کے دوران وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں تیل کی مسلسل دستیابی یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کر رہی ہے اور ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا جس سے تیل کی فراہمی متاثر ہو۔

علی پرویز ملک نے خبردار کیا کہ اگر ملک میں تیل کی قلت پیدا ہوگئی تو صورتحال انتہائی سنگین ہوسکتی ہے اور تیل شاید ایک ہزار روپے فی لیٹر میں بھی دستیاب نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ خطے کے بعض ہمسایہ ممالک میں تیل کی قلت کے باعث پیدا ہونے والی افراتفری دیکھی گئی ہے، تاہم حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کو موجودہ بحران کے اثرات سے تحفظ دینا ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔

وفاقی وزیر کے مطابق موجودہ تنازع کب ختم ہوگا، اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازع کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 80 فیصد تک اضافہ ہوا، جبکہ پاکستان میں قیمتوں میں اضافہ تقریباً 50 فیصد رہا، جسے انہوں نے حکومتی اقدامات کا نتیجہ قرار دیا۔

علی پرویز ملک نے مزید بتایا کہ اکتوبر میں زیرِ سمندر تیل کی تلاش کے لیے ترکی کا ایک جہاز پاکستان پہنچے گا۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان سمندری علاقوں میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے پہلے ہی معاہدے ہوچکے ہیں اور ترک توانائی حکام کے مطابق تحقیقاتی جہازوں کی سرگرمیاں 2026 میں پاکستان میں شروع ہونی ہیں۔

دوسری جانب حالیہ سرکاری معلومات کے مطابق پاکستان نے موجودہ حالات میں ملکی ضروریات کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر برقرار رکھنے اور متبادل ذرائع سے خام تیل کی فراہمی کے انتظامات پر بھی توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.