تازہ ترین

ٹرمپ کا بڑا اعلان، امریکا میں نئی اے آئی فورس بنانے کا فیصلہ

0

واشنگٹن: مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے اثرات کے پیش نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے آئی کے شعبے کی نگرانی اور اس سے متعلق پالیسی کو منظم کرنے کیلئے نئی ’’اے آئی فورس‘‘ تشکیل دینے کا اعلان کردیا ہے، جبکہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کیلئے ایک خصوصی سربراہ مقرر کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا مصنوعی ذہانت کی صنعت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا بلکہ اس شعبے کی حوصلہ افزائی کے ساتھ نگرانی بھی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کے ممکنہ غلط استعمال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے موجود فوجداری اور سول قوانین کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔

امریکی صدر اس سے قبل مصنوعی ذہانت اور بڑے ڈیٹا سینٹرز کے خلاف سامنے آنے والی تنقید کو بھی مسترد کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کیلئے ضروری ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی عالمی برتری برقرار رکھے اور اس ٹیکنالوجی کی ترقی میں پیچھے نہ رہے۔

ٹرمپ کے تازہ اعلان کے بعد امریکا میں اے آئی کے ضابطہ کار، ٹیکنالوجی کی سکیورٹی اور اس سے وابستہ ممکنہ خطرات سے متعلق بحث مزید اہم ہوگئی ہے۔ امریکی حکام چین کے ساتھ مستقبل میں ہونے والے مذاکرات میں بھی مصنوعی ذہانت کے معاملے کو زیر بحث لانے کی تیاری کررہے ہیں۔

امریکا اور چین دونوں مصنوعی ذہانت کو معاشی اور فوجی مسابقت میں اہم سمجھتے ہیں، تاہم جدید چپس، ٹیکنالوجی کی برآمدات اور اے آئی سے متعلق نگرانی سمیت کئی معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت آنے والے برسوں میں ایک بڑی صنعتی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے اور امریکا کو چین سمیت دیگر ممالک کے مقابلے میں اپنی برتری برقرار رکھنے کیلئے اس شعبے میں آگے بڑھنا ہوگا۔

دوسری جانب ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ بعض نمایاں شخصیات نے اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ممکنہ خطرات پر محتاط رویہ اختیار کرنے اور زیادہ مؤثر نگرانی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی، اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین اور ایلون مسک سمیت مختلف ٹیکنالوجی رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت کی ترقی سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کے حوالے سے احتیاط کی ضرورت پر بات کی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.