کم جونگ اُن نئے سرحدی پل کے ذریعے چین پہنچ گئے، شی جن پنگ سے ملاقات کا امکان
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن ہفتے کی صبح ایک نئے سرحدی پل کے ذریعے چین پہنچ گئے، جہاں ان کے ممکنہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کو خطے کی سفارتی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ جنوبی کوریا کے ایک سرکاری عہدیدار نے تصدیق کی کہ کم جونگ اُن کا وفد سرحدی شہر ڈانڈونگ میں داخل ہوا اور تین کلومیٹر طویل نیو یالو ریور پل کے ذریعے چین کا سفر مکمل کیا۔
چین اور شمالی کوریا کے درمیان اس اہم زمینی گزرگاہ کو رواں ماہ طویل تاخیر کے بعد باضابطہ طور پر کھولا گیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دینا اور کورونا وبا کے دوران پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے بعد تجارتی سرگرمیوں کو دوبارہ تیز کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق نئے پل سے بھاری مشینری، خام مال اور توانائی کی ترسیل میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے، جس سے شمالی کوریا کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔
کم جونگ اُن کے اس دورے کو بیجنگ اور پیانگ یانگ کے درمیان سفارتی تعلقات میں بہتری کی ایک اہم علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے رہنماؤں نے گزشتہ تیرہ ماہ کے دوران دو اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کی ہیں، جن کا مقصد باہمی تعاون اور تعلقات کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ تاہم، چینی حکام نے کم جونگ اُن کے موجودہ دورے کے مکمل شیڈول یا کسی باضابطہ سربراہی ملاقات کی ابھی تصدیق نہیں کی۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کم جونگ اُن چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے، تاہم اس حوالے سے حتمی معلومات سامنے نہیں آئیں۔ کم جونگ اُن اس سے قبل ستمبر 2025 میں بھی چین گئے تھے، جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ کے ساتھ یومِ فتح کی تقریبات میں شرکت کی تھی۔ دوسری جانب امریکا اور جنوبی کوریا بھی خطے میں ہونے والی سفارتی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ شمالی کوریا کی آئندہ پالیسی اور علاقائی حکمت عملی کا اندازہ لگایا جاسکے۔
چین، شمالی کوریا کا سب سے بڑا اقتصادی شراکت دار اور اہم سفارتی اتحادی ہے، جبکہ گزشتہ برسوں کے دوران پیانگ یانگ نے روس کے ساتھ بھی فوجی تعاون میں اضافہ کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق روس کے ساتھ بڑھتے روابط نے شمالی کوریا کے لیے چین پر انحصار میں کسی حد تک تنوع پیدا کیا، تاہم بیجنگ اب بھی اس کی تجارت اور معیشت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے درمیان ممکنہ ملاقات کے امکانات کم ہونے سے بھی شمالی کوریا کی علاقائی سفارت کاری کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
چین آئندہ ماہ شینژن میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنے والا ہے، جس میں عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔ ایسے میں کم جونگ اُن کے دورے کو وسیع تر علاقائی سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ڈانڈونگ میں حکام نے سرحدی علاقے میں سکیورٹی سخت کردی ہے، جبکہ تجارتی کمپنیاں نئے پل کے ذریعے مال برداری کی سرگرمیاں بڑھانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ تاہم، کسی باضابطہ سربراہی ملاقات اور اس کے نتائج کے بارے میں حتمی مؤقف سرکاری تصدیق کے بعد ہی سامنے آسکے گا۔