فیلڈ مارشل عاصم منیرکی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں، پاک ایران سرحد دوبارہ کھل گئی
پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد دوبارہ کھول دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دوران سامنے آئی، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی تہران میں موجود تھے۔ دورے کے دوران پاکستانی وفد نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل محسن رضائی سے ملاقاتیں کیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی حکام کو بتایا کہ پاک ایران سرحد سے متعلق مسائل حل کرلیے گئے ہیں اور سرحد دوبارہ کھول دی گئی ہے۔ محمد باقر قالیباف سے ملاقات میں بھی سرحد پر پیش آنے والے مسائل کو عارضی اور تکنیکی نوعیت کا قرار دیا گیا۔
سرحد کی بحالی دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور آمدورفت کے لیے اہم پیش رفت ہے، خصوصاً ان علاقوں کے لیے جہاں مقامی آبادی کا روزگار اور کاروبار سرحد پار نقل و حرکت سے وابستہ ہے۔
عاصم منیر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون برقرار رکھنے کے ساتھ ایران سے قریبی روابط قائم رکھنے کا بھی چیلنج درپیش ہے۔ پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی کی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور جوہری مذاکرات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ محسن رضائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران اپنا افزودہ جوہری مواد ملک سے باہر منتقل نہیں کرے گا اور اسے قومی اثاثہ قرار دیا۔
محمد باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ اعتماد کی بحالی کو مذاکرات کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدامات اور دھمکیوں کے باعث تہران کا عدم اعتماد مزید بڑھا ہے۔ ان کے مطابق فوجی دباؤ اور دھمکیاں ایران کے تزویراتی فیصلوں کو تبدیل نہیں کرسکتیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی کوششوں پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق امریکہ کو مذاکرات کی بحالی کے لیے دباؤ، دھمکیوں اور پابندیوں کے خاتمے کی جانب پیش رفت کرنا ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ بھی کیا۔ ایرانی ذرائع نے بتایا کہ امریکی پیغام کے جواب میں تہران نے واضح مؤقف پیش کیا، تاہم پیغام اور جواب کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ آرمی چیف نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھی نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔
سرحد کی دوبارہ بحالی اور تہران میں ہونے والی ملاقاتوں کو پاکستان اور ایران کے تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ علاقائی کشیدگی میں کمی اور امریکہ ایران مذاکرات کی بحالی کے لیے آئندہ سفارتی اقدامات اہم ہوں گے۔