مہنگا قرض، مہنگا ایندھن اور کم مالی امداد، ترقی پذیر ممالک کے لیے مشکلات بڑھ گئیں
عالمی معاشی دباؤ اور مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان معاشی فرق مزید بڑھا سکتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ ترقیاتی امداد میں کمی اور قرضوں کی بڑھتی لاگت کم آمدنی والے ممالک کے لیے معاشی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جارجیوا نے کہا کہ ترقی یافتہ معیشتوں میں شرحِ سود بڑھنے کے اثرات ابھرتی ہوئی اور کم آمدنی والی معیشتوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ ان کے مطابق قرضوں کی ادائیگی پر اوسط اخراجات ایک دہائی قبل آمدن کے چھ فیصد کے برابر تھے، جو اب بڑھ کر 14 فیصد ہو گئے ہیں، اگرچہ مجموعی قرضوں کے بوجھ میں کمی آئی ہے۔
آئی ایم ایف سربراہ نے کہا کہ معاشی ترقی میں فرق بڑھنے کا سب سے زیادہ خطرہ ان ممالک کو ہے جو پہلے ہی ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ غربت میں کمی اور ترقی کے لیے قائم فنڈ میں اضافی مالی وسائل فراہم کرنے کے وعدے پورے کریں۔ یہ فنڈ کم آمدنی والے ممالک کو کم یا صفر شرحِ سود پر قرض فراہم کرتا ہے۔
جارجیوا نے آفات سے متاثرہ غریب اور کمزور ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف دینے والے فنڈ کے لیے بھی اضافی وسائل فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایندھن اور خوراک کی بڑھتی قیمتیں، ترقیاتی امداد میں کمی اور خطرے والے سرمایہ کاری منصوبوں میں کم دلچسپی کئی ممالک پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے۔
آئی ایم ایف نے رواں ہفتے مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کے ممکنہ خاتمے، بڑھتے ہوئے قرضوں اور مشرق وسطیٰ میں طویل تنازعے کے باعث عالمی ترقی اور مالی استحکام کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی تھی۔ ادارے نے 2026 کے لیے عالمی معاشی ترقی کی شرح 3.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ تقریباً تمام ترقی پذیر معیشتوں کی ترقی سست ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ترقی پذیر ممالک کے حکام نے بھی قرضوں کی ادائیگی کے بڑھتے اخراجات کو جامع معاشی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں تقریباً 500 ارب ڈالر زیادہ قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات کا سامنا ہے۔
گیمبیا کے وزیر خزانہ سیدی کیتا نے کہا کہ قرضوں کی ادائیگی کی لازمی ذمہ داریوں کے باعث ترقی پذیر ممالک کے لیے بنیادی ڈھانچے اور انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف اس وقت اپنے رکن ممالک کو فراہم کیے جانے والے قرضوں کے مقابلے میں زیادہ رقم وصول کر رہا ہے۔
کیمرون کے وزیر خزانہ لوئس پال موٹازے نے بھی کہا کہ ترقی پذیر معیشتوں کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مدد درکار رہے گی۔ ان کے مطابق ملکی وسائل کو متحرک کرنا، قرضوں کا بہتر انتظام اور مقامی سرمایہ جاتی منڈیوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے، تاہم صرف داخلی اقدامات بڑھتے ہوئے مالیاتی خلا کو پُر کرنے کے لیے کافی نہیں ہوسکتے۔
جارجیوا نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے کم آمدنی والے ممالک کے لیے اپنے رعایتی قرضوں کے نظام میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ قرضوں کی فراہمی تین گنا تک بڑھائی جاسکے، تاہم اس مقصد کے لیے رکن ممالک کو اپنے مالی وعدے پورے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے سینیگال کے قرضوں کی تنظیم نو کے عمل میں پیش رفت کی امید بھی ظاہر کی اور بتایا کہ ملک کے لیے 2.2 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر عملے کی سطح پر اتفاق ہوچکا ہے۔