تازہ ترین

بچوں میں غذائی کمی سے بچاؤ، والدین کن غذائی اجزا پر توجہ دیں؟

0

بچپن کے ابتدائی سال بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں، خصوصاً ایک سے تین سال کی عمر میں متوازن غذا کی فراہمی والدین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ اس عمر میں بعض بچے کھانے سے انکار کرتے ہیں یا بہت کم مقدار میں غذا کھاتے ہیں، جس سے ان کی غذائی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

اس عمر کے بچوں کو دن میں پانچ سے چھ مرتبہ غذا دینے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ ان کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری ہوسکیں۔ ضروری وٹامنز اور معدنیات کی کمی بچوں کی نشوونما کو متاثر کرسکتی ہے اور جسم کی بیماریوں و انفیکشنز کے خلاف مزاحمت بھی کمزور پڑسکتی ہے۔

وٹامن ڈی ہڈیوں اور جسمانی نشوونما کے لیے اہم ہے۔ مچھلی، انڈے کی زردی اور بچوں کے لیے موزوں مقدار میں دودھ اس کے ذرائع ہیں، جبکہ سورج کی روشنی بھی جسم میں وٹامن ڈی بنانے میں مدد دیتی ہے۔ بچوں کو دھوپ میں رکھنے کے دورانیے اور جلد کی حفاظت کے لیے مقامی طبی مشورے کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

وٹامن کے خون جمنے کے عمل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی کمی سے غیر معمولی خون بہنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ بروکلی، سبز پتوں والی سبزیاں، بند گوبھی، پھول گوبھی اور گوشت اس کے غذائی ذرائع میں شامل ہیں۔

وٹامن اے بینائی، جلد اور مدافعتی نظام کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ گاجر، کدو، بروکلی، دودھ، پنیر، انڈے اور شملہ مرچ اس وٹامن کے حصول میں مددگار غذائیں ہیں۔

آئرن بھی بچوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ یہ سرخ خون کے خلیات بنانے کے لیے ضروری ہے۔ اس کی کمی سے خون کی کمی، بھوک میں کمی، چڑچڑاپن اور تھکن جیسی علامات سامنے آسکتی ہیں۔ سبز پتوں والی سبزیاں، گوشت، مچھلی اور انڈے آئرن کے غذائی ذرائع میں شامل ہیں۔

اسی طرح کیلشیم ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔ دودھ اور اس سے بنی مصنوعات، بعض سبزیاں، باجرا اور میوے کیلشیم فراہم کرتے ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ بچوں کی عمر کے مطابق متوازن غذا میں ان غذائی اجزا کو مناسب مقدار میں شامل کریں۔ کسی بھی وٹامن یا معدنی سپلیمنٹ کا استعمال بچوں کے ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا زیادہ محفوظ ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.